پاکستان کے نئے بجٹ کیلئے آئی ایم ایف وفد کی آمد متوقع، 230 ارب کے نئے ٹیکس زیر غور

منصور احمد ,May10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) پاکستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد جلد پاکستان پہنچنے کا امکان ہے، جہاں حکومت کے ساتھ ٹیکس اہداف، مالیاتی اصلاحات اور نئے محصولات سے متعلق اہم مذاکرات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے تقریباً 15 ہزار 300 ارب روپے ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کرنے کی تیاری کر لی ہے، جبکہ اس ہدف کے حصول کیلئے 230 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تاجروں کیلئے نئی ٹیکس سکیم بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور محصولات میں اضافے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف وفد بجٹ تجاویز، توانائی شعبے کی اصلاحات اور مالیاتی خسارے میں کمی کے منصوبوں کا جائزہ لے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کیلئے سخت مالی فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ پیٹرولیم لیوی، سیلز ٹیکس اور دیگر شعبوں میں اضافی محصولات حاصل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق آنے والا بجٹ عوام اور کاروباری طبقے دونوں کیلئے چیلنجنگ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کی بحالی کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں۔