آئی ایم ایف کا پاکستان کو اصلاحات جاری رکھنے کا مشورہ، مشرق وسطیٰ جنگ کے خطرات پر خبردار

کاشف عباسی ,May 10 ,2026

واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کیلئے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی قیمتوں، تجارت اور عالمی مالیاتی صورتحال پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کو معاشی اصلاحات کا عمل تیز کرنا ہوگا۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے کی منظوری دی، جس کے بعد پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر EFF جبکہ 22 کروڑ ڈالر RSF کے تحت ملیں گے۔ اس کے ساتھ موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو جائیں گے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان نے مشکل عالمی حالات اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھا، تاہم مستقبل میں بیرونی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ فنڈ کے مطابق جنگ کے اثرات سے تیل کی قیمتوں، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی مالیاتی مارکیٹس میں دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جو پاکستان کی معیشت کیلئے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک نے کہا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے سخت مالیاتی پالیسی، ٹیکس اصلاحات اور ساختی تبدیلیوں پر تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، محصولات میں اضافہ کیا جائے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات کی جائیں۔

فنڈ نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو حقیقی لاگت کے مطابق رکھنا ہوگا تاکہ مالیاتی دباؤ دوبارہ پیدا نہ ہو۔ ساتھ ہی کمزور طبقے کیلئے ٹارگٹڈ ریلیف کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ روپے کی قدر میں لچک برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ بیرونی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کیلئے سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھنی چاہیے۔

فنڈ نے مزید کہا کہ پاکستان کو گورننس بہتر بنانے، نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے، بدعنوانی کے خلاف اداروں کو مضبوط کرنے اور نجی شعبے کیلئے رکاوٹیں ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پائیدار معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔