عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں اور تعلیمی بحران: سال 2025 میں 171 ملین طلباء کی سکولنگ متاثر، یونیسف کی ہنگامی رپورٹ جاری

Spread the love

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کی جانب سے جاری کی گئی ایک اہم اور عالمی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2025ء کے دوران بین الاقوامی سطح پر 171 ملین (17 کروڑ 10 لاکھ) سے زائد طلباء کی پری پرائمری سے لے کر اعلیٰ ثانوی سطح تک کی تعلیم شدید موسمیاتی خطرات اور آفتوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے، جو دنیا بھر کے کل طلباء کی تعداد کے لحاظ سے ہر 10 میں سے ایک طالب علم بنتا ہے۔

یونیسف نے 106 ممالک اور خطوں کے تفصیلی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ شدید طوفانوں، تباہ کن سیلابوں، غير معمولی ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کی وجہ سے ہزاروں تعلیمی اداروں میں کلاسیں معطل ہوئیں، سکولوں کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہوا یا تعلیمی دورانیے کو مجبورا مختصر کرنا پڑا۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ موسمیاتی بحران لاکھوں بچوں کے سیکھنے کے عمل کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کو تباہ کر رہا ہے اور خصوصاً لڑکیوں کو تعلیمی دھارے سے باہر دھکیل رہا ہے۔

رپورٹ کی تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ سال کے دوران سکولوں کی بندش کا سب سے بڑا سبب شدید سمندری و میدانی طوفان بنے جس سے عالمی سطح پر 109 ملین طلباء متاثر ہوئے۔ اس کے بعد سیلاب سے کم از کم 70 ملین بچوں کی تعلیم رک گئی جبکہ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) نے تقریباً 50 ملین بچوں کی سکولنگ پر منفی اثرات مرتب کیے۔ متاثرہ بچوں میں سے تین چوتھائی کا تعلق غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے ہے جن کے پاس موسمیاتی آفتوں سے بچاؤ کے تزویراتی وسائل کا فقدان ہے۔

یونیسف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025ء کے دوران پاکستان میں آنے والے مون سون کے شدید سیلاب اور طغیانی کی وجہ سے 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) سے زیادہ بچوں کی سکولوں کو واپسی اور پڑھائی میں تاخیر ہوئی، جو سال 2025ء کے دوران عالمی سطح پر ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی تعلیمی رکاوٹوں میں شمار کی گئی۔ دوسری طرف مصر میں خمسین طوفان نے ایک ہی دن میں 2 ملین طلباء کی کلاسیں معطل کیں جبکہ سپین کی ویلنسیئن کمیونٹی میں طوفانوں نے 5 لاکھ بچوں کو متاثر کیا۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کلاس رومز سے غیر حاضری اور سکول چھوڑنے (ڈراپ اؤٹ) کی بڑھتی شرح سے ممالک کی معاشی نمو سست پڑ جائے گی۔ یونیسف کے تخمینے کے مطابق 2025ء میں تعلیم میں پڑنے والے اس تعلیمی حرج کی وجہ سے متاثرہ بچوں کی آئندہ زندگی بھر کی مجموعی کمائی میں کم از کم 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، ہنگامی حالات میں لڑکیوں پر گھریلو کام اور پانی لانے کا بوجھ بڑھنے سے ان کی کم عمری کی شادی اور تعلیمی سلسلے سے ہمیشہ کے لیے محرومی کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

یونیسف نے اس عالمی مسئلے کے حل کے لیے حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ تعلیمی پالیسیوں میں موسمیاتی لچک کو شامل کریں، سکولوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنیادوں پر تعمیر کریں، اور نصاب میں کلائمیٹ ایجوکیشن کو لازمی جزو بنائیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے تمام عالمی ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے عالمی اور ملکی مالی معاونت میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔