یمن میں حوثیوں کا سب سے بڑا عسکری و بحری کنٹرول: بحیرۂ احمر کی تقریباً پوری ساحلی پٹی پر قبضے کا دعویٰ

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں شدید اور خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل تقریباً تمام تر مغربی ساحلی خطے اور اس سے ملحقہ اہم جزائر پر مکمل عسکری کنٹرول حاصل کرنے کا باضابطہ دعویٰ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک سینئر فوجی عہدیدار نے عالمی خبر رساں ادارے فرانس پریس (اے ایف پی) سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمن کے مغربی ساحل پر قائم حکومت کے تمام آخری مضبوط عسکری مراکز اب حوثیوں کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ یمنی فوجی اہلکار نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مغربی ساحل کے جس خطے پر بھی اب تک حکومتی فورسز اور اتحادیوں کی عملداری تھی، وہ اب مکمل طور پر ہاتھ سے نکل چکی ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق بحیرۂ احمر میں ساحلی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثی جنگجوؤں نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی حساس اور تزویراتی آبنائے باب المندب کے قریبی سمندر میں واقع مزید دو اہم جزائر پر بھی اپنا عسکری قبضہ جما لیا ہے۔

یہ تشویشناک عسکری پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے 11 ستمبر کو تصدیق کی تھی کہ حوثی عسکریت پسندوں نے باب المندب کے عین وسط میں واقع تاریخی پیریم (میون) جزیرے پر کامل تصرف حاصل کر لیا ہے۔

اس تاریخ ساز پیش قدمی سے قبل حوثی عسکری ڈویژنز نے بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ اور ساحلی شہر موچا (المخا) پر مکمل قبضہ کیا تھا اور وہاں سے جنوب کی سمت برق رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے دہانے پر واقع اہم علاقے دھباب (ذباب) پر قبضہ جمایا تھا۔

واضح رہے کہ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے جوڑنے والی دنیا کی سب سے مصروف اور حساس ترین سمندری شاہراہ ہے، جو عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل اور توانائی کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے اہم ترین شمار کی جاتی ہے۔ اس شاہراہ کے بالکل وسط میں واقع پیریم (میون) جزیرہ پورے خطے کا عسکری توازن برقرار رکھنے میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔

دفاعی و بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی فورسز اس طویل ساحلی پٹی اور آبنائے باب المندب کے گرد و پیش میں اپنا عسکری تسلط برقرار رکھنے اور دفاعی مورچے قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف بین الاقوامی بحری جہاز رانی مفلوج ہو سکتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل پر دباؤ اور بحری تحفظ کا بحران مزید شدید ہو جائے گا۔

نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے حاشیے پر اہم ملاقات: ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گفتگو

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے، جس میں دونوں اہم ایشیائی ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کے فروغ اور اسٹریٹجک معاہدوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا دہرایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور سفارتی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز منعقد ہونے والی اس معتبر ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران اور بھارت کے تاریخی اور تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی طے پانے والے اسٹریٹجک معاہدوں، بالخصوص چابہار بندرگاہ اور مواصلاتی راہداریوں کی ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت اور پیشرفت کو مسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نئی دہلی میں برکس کا سالانہ سربراہی اجلاس مکمل شدومد اور عالمی برادری کی توجہ کے ساتھ جاری ہے۔ اس عالمی سربراہی اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ سمیت دنیا کے دیگر تمام اہم برکس رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومتی نمائندے بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔

اس دوطرفہ ملاقات سے قبل برکس کے مرکزی اقتصادی سربراہی اجلاس سے اپنے جامع خطاب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے رکن ممالک کے درمیان بینکنگ، مالیاتی اور تجارتی شعبوں میں تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط، باہمی اور موثر بنانے پر خاص زور دیا تھا۔

ایرانی صدر نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی و مالیاتی ناکہ بندی اور تجارتی ہتھکنڈوں کے سیاسی استعمال سے آزاد اور خودمختار ممالک کے درمیان جائز بین الاقوامی تجارت کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہو رہے ہیں، جن کا مقابلہ صرف اور صرف برکس کے موثر معاشی اشتراک سے ہی ممکن ہے۔

برکس ممالک قومی کرنسیوں میں تجارت کو وسعت دیں اور آزاد مالیاتی نظام قائم کریں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بڑا مطالبہ

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تجارت کے فروغ کے لیے قومی کرنسیوں کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں اور عالمی مالیاتی دباؤ سے بچنے کے لیے آزاد و موثر بین الاقوامی مالیاتی و ادائیگیاں کا نظام ہنگامی بنیادوں پر تشکیل دیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں۔ برکس بزنس فورم کا اہم اور کثیر الجہتی اجلاس 11 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ مرکزی برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہوگا۔

برکس بزنس فورم کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارتی لین دین میں اپنی اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو مستحکم کرنا دورِ حاضر کا اہم ترین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے باہمی ادائیگیوں کے ایسے جدید مالیاتی اور بینکنگ کے ذرائع تشکیل دینا ناگزیر ہیں جو رکن ممالک کے درمیان معاشی و تجارتی تعاون کو کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر مضبوط بنا سکیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عالمی مالیاتی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی اقتصادی نظام محدود تعداد میں طاقتور کرنسیوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سیاسی دباؤ، تحکم اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کے مقابلے میں شدید غیر محفوظ اور کمزور ثابت ہوتا ہے۔

مسعود پزشکیان نے اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو پائیدار اور حقیقی اقتصادی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیم کے نیو ڈیولپمنٹ بینک کو مرکزی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ بینک تمام رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور توانائی کے اہم منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔

انہوں نے بینکنگ نظام کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز کے قیام، مقامی اور قومی کرنسیوں میں فنانسنگ کے فروغ اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مناسب اور قابلِ اعتماد ضمانتی نظام فراہم کرنے کی تجاویز پیش کیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تمام برکس ممالک باہمی تجارت، سرحد پار سے ہونے والی ادائیگیوں کے تحفظ اور عالمی مالیاتی اداروں میں دور رس اصلاحات کے لیے مربوط تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے برکس کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں نے بھی اپنے حالیہ اجلاس میں سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید موثر، کم لاگت، شفاف اور محفوظ بنانے کی ضرورت پر کامل اتفاق کیا ہے۔

عازمین حج کو غیر مجاز کمپنیوں کو رقم نہ دینے کی ہدایت؛ تمام ادائیگیاں صرف آفیشل پورٹل اور پاک حج ایپ کے ذریعے کرنے کی سخت تاکید

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے آئندہ حج سیزن کے لیے پرائیویٹ حج سکیم کے تحت فریضہ حج ادا کرنے کے خواہش مند شہریوں کو شدید فراڈ اور گمراہ کن مہم سے بچانے کے لیے ایک اہم انتباہی اعلامیہ جاری کیا ہے۔

جمعہ کو وزارت مذہبی امور کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ (بی ایم ایچ 786) نامی ادارہ بالکل بھی رجسٹرڈ یا لائسنس یافتہ حج آرگنائزر (منظم) نہیں ہے، اور نہ ہی حکومتِ پاکستان کی طرف سے پرائیویٹ حج سکیم کے تحت اس ادارے کو کوئی حج کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔

وزارت نے عام عازمینِ حج کو سخت خبردار کیا ہے کہ وہ حج انتظامات، بکنگ یا کوٹے کے نام پر اس نام نہاد ادارے یا کسی بھی دیگر غیر لائسنس یافتہ فرد، ایجنٹ یا کمپنی کو کسی قسم کی ادائیگی یا رقم کی لین دین ہرگز نہ کریں۔ حکام نے وضاحت کی کہ موجودہ حج سیزن کے لیے منظور شدہ اور تمام مجاز لائسنس یافتہ منظمین کی درست اور تازہ ترین فہرست وزارت کے سرکاری حج مینجمنٹ سسٹم کی ویب سائٹ اور “پاک حج” موبائل ایپلیکیشن پر ہر وقت دستیاب ہے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی شدید زور دیا گیا ہے کہ پرائیویٹ حج سکیم کے تحت تمام تر مالی ادائیگیاں — قطع نظر اس کے کہ وہ کسی تصدیق شدہ لائسنس یافتہ منظم کے ساتھ ہی کیوں نہ کی جا رہی ہوں — صرف اور صرف سرکاری ‘حج مینجمنٹ سسٹم’ یا ‘پاک حج ایپ’ کے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ہی انجام دی جائیں۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ نقد رقم (کیش) کی صورت میں یا کسی فرد یا کمپنی کے ذاتی و نجی بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست رقم منتقل کرنے کی صورت میں عازمِ حج تمام تر معاشی و قانونی نقصانات کا خود ذمہ دار ہوگا، اور ایسی صورت میں وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ، کسٹمر سپورٹ اور داد رسی کے قانونی طریقہ کار سے استفادہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں اور تعلیمی بحران: سال 2025 میں 171 ملین طلباء کی سکولنگ متاثر، یونیسف کی ہنگامی رپورٹ جاری

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) کی جانب سے جاری کی گئی ایک اہم اور عالمی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2025ء کے دوران بین الاقوامی سطح پر 171 ملین (17 کروڑ 10 لاکھ) سے زائد طلباء کی پری پرائمری سے لے کر اعلیٰ ثانوی سطح تک کی تعلیم شدید موسمیاتی خطرات اور آفتوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے، جو دنیا بھر کے کل طلباء کی تعداد کے لحاظ سے ہر 10 میں سے ایک طالب علم بنتا ہے۔

یونیسف نے 106 ممالک اور خطوں کے تفصیلی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ شدید طوفانوں، تباہ کن سیلابوں، غير معمولی ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلاتی آگ کی وجہ سے ہزاروں تعلیمی اداروں میں کلاسیں معطل ہوئیں، سکولوں کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ ہوا یا تعلیمی دورانیے کو مجبورا مختصر کرنا پڑا۔ یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ موسمیاتی بحران لاکھوں بچوں کے سیکھنے کے عمل کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کو تباہ کر رہا ہے اور خصوصاً لڑکیوں کو تعلیمی دھارے سے باہر دھکیل رہا ہے۔

رپورٹ کی تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ سال کے دوران سکولوں کی بندش کا سب سے بڑا سبب شدید سمندری و میدانی طوفان بنے جس سے عالمی سطح پر 109 ملین طلباء متاثر ہوئے۔ اس کے بعد سیلاب سے کم از کم 70 ملین بچوں کی تعلیم رک گئی جبکہ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) نے تقریباً 50 ملین بچوں کی سکولنگ پر منفی اثرات مرتب کیے۔ متاثرہ بچوں میں سے تین چوتھائی کا تعلق غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے ہے جن کے پاس موسمیاتی آفتوں سے بچاؤ کے تزویراتی وسائل کا فقدان ہے۔

یونیسف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025ء کے دوران پاکستان میں آنے والے مون سون کے شدید سیلاب اور طغیانی کی وجہ سے 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) سے زیادہ بچوں کی سکولوں کو واپسی اور پڑھائی میں تاخیر ہوئی، جو سال 2025ء کے دوران عالمی سطح پر ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی تعلیمی رکاوٹوں میں شمار کی گئی۔ دوسری طرف مصر میں خمسین طوفان نے ایک ہی دن میں 2 ملین طلباء کی کلاسیں معطل کیں جبکہ سپین کی ویلنسیئن کمیونٹی میں طوفانوں نے 5 لاکھ بچوں کو متاثر کیا۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کلاس رومز سے غیر حاضری اور سکول چھوڑنے (ڈراپ اؤٹ) کی بڑھتی شرح سے ممالک کی معاشی نمو سست پڑ جائے گی۔ یونیسف کے تخمینے کے مطابق 2025ء میں تعلیم میں پڑنے والے اس تعلیمی حرج کی وجہ سے متاثرہ بچوں کی آئندہ زندگی بھر کی مجموعی کمائی میں کم از کم 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، ہنگامی حالات میں لڑکیوں پر گھریلو کام اور پانی لانے کا بوجھ بڑھنے سے ان کی کم عمری کی شادی اور تعلیمی سلسلے سے ہمیشہ کے لیے محرومی کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

یونیسف نے اس عالمی مسئلے کے حل کے لیے حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ تعلیمی پالیسیوں میں موسمیاتی لچک کو شامل کریں، سکولوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنیادوں پر تعمیر کریں، اور نصاب میں کلائمیٹ ایجوکیشن کو لازمی جزو بنائیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے تمام عالمی ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی انفراسٹرکچر کے لیے عالمی اور ملکی مالی معاونت میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

موسمیاتی چیلنجز اور ذمہ دارانہ صحافت: پاکستان ریڈ کریسنٹ اور جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ اختتام پذیر

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (ہلال احمر پاکستان) کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اور میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس کے زیر اہتمام جرمن ریڈ کراس کے خصوصی تعاون سے منعقدہ دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے۔

اس دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے موسمیاتی خطرپذیری کا شکار اضلاع سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد نمائندہ صحافیوں اور فیلڈ رپورٹرز نے متحرک شرکت کی۔

ورکشاپ کے ابتدائی سیشنز میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کے نمائندگان سجاد علی کندھیر اور مرتضیٰ تالپور نے تربیتی مقاصد پر بریفنگ دی، جبکہ جرمن ریڈ کراس کے آصف امان اور پروگرام کوآرڈینیٹر غلام رسول فاروقی نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ماحول اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ذمہ دارانہ اور اثر انگیز صحافت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں، ادارے کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن شیر زمان نے ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی تاریخ، مینڈیٹ اور بالخصوص پاکستان میں جاری انسانی خدمات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریحان علی نے معاونت فراہم کی۔

تربیتی نشستوں کے دوران ماحول اور موسمیاتی امور کی ماہر صحافی انیبہ وقار نے موسمیاتی سائنس، سٹوری ڈویلپمنٹ، کلائمیٹ پالیسی اور تحریری مشقوں پر خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا، جبکہ براڈکاسٹ جرنلسٹ عبدالرزاق کھٹی نے جدید موبائل جرنلزم (MoJo) کے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ میں کلائمیٹ ڈیٹا جرنلزم، روزمرہ کی خبروں کے موسمیاتی زاویے اور انسانی مرکز کہانیوں کی تشکیل پر عملی کام کروایا گیا اور صحافیوں کو ماہرین سے براہِ راست فیڈ بیک فراہم کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرپرسن ہلال احمر پاکستان فرزانہ نائیک نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ موسمیاتی اقدامات کی شروعات ایسے پائیدار حل سے ہونی چاہیے جو مقامی آبادیوں کی حقیقی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ انہوں نے صحافیوں کی کارکردگی اور Capacity Building کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نمائندگان متاثرہ کمیونٹیز کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانے کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔

سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان محمد عبیداللہ خان نے اختتامی گفتگو میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ملک بھر میں عام شہریوں کے روزگار، صحت اور انسانی زندگیوں کو شدید متاثر کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے درست اور حقائق پر مبنی کلائمیٹ رپورٹنگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے سے پالیسی سازوں اور متاثرہ عوام کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

یمنی حکومتی فورسز کے اچانک انخلا کے بعد اہم بحری گزرگاہ کا کنٹرول حوثیوں کے ہاتھ میں چلے جانے کی اطلاعات؛ المخا ایئرپورٹ پر سعودی بمباری

محمود احمد, September 11,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

یمن میں جاری خونی عسکری پیش قدمی کے دوران ایران کے حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں نے عالمی تجارت اور سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کے حامل باب المندب کے دہانے پر واقع اہم جزیرے “میون” پر باقاعدہ قبضہ کر لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرکاری فورسز کے اعلیٰ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یمنی حکومتی اور اتحادی فورسز شدید عسکری دباؤ کے بعد جزیرہ میون سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی ہیں، جس کے فوراً بعد حوثی جنگجوؤں نے جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

جغرافیائی و عسکری لحاظ سے انتہائی حساس جزیرہ میون، جسے بین الاقوامی سطح پر اکثر “باب المندب جزیرہ” بھی کہا جاتا ہے، اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے بالکل وسط میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ باب المندب کی چوڑائی کو دو اہم بین الاقوامی بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے، جس کے باعث یہاں سے گزرنے والے ہر تجارتی و تلی ٹینکر پر براہِ راست نظر رکھی جا سکتی ہے۔

اس اہم پیش رفت سے قبل موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق یمن کے ساحلی شہر “ذباب” پر بھی حوثی عسکریت پسند پہلے ہی کامل کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ ان دونوں اہم علاقوں پر قبضے کے بعد اب باب المندب کی اس نایاب اور اہم آبی گزرگاہ کے بیشتر اور اہم حصوں پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جو نہ صرف عالمی بحری تجارت بلکہ بالخصوص برادر ملک سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کے لیے سب سے اہم تجارتی راستہ شمار کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومتی فورسز اور سعودی اتحادی افواج کے خلاف متعدد محاذوں پر ایک ہی وقت میں بڑے پیمانے پر حتمی عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

دوسری جانب حوثی گروپ سے وابستہ سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی فضائیہ نے یمن کے مختلف اضلاع میں درجنوں شدید بمبار حملے کیے ہیں، جن کے دوران المخا شہر میں واقع ہوائی اڈے (المخا ایئرپورٹ) کو دو مرتبہ شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ المخا کی اہم اور تاریخی بندرگاہ بھی حالیہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں حوثیوں کے کنٹرول میں جا چکی ہے۔

بانیِ پاکستان قائداعظمؒ کی دیانت، اصول پسندی اور قومی عزم آج بھی ہماری مشعلِ راہ ہے: وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی برسی کے موقع پر اپنے ایک خصوصی اور پرعزم پیغام میں کہا ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی سچی دیانت، بے مثال اصول پسندی اور غیر متزلزل قومی عزم آج بھی ملک و قوم کی درست سمت میں رہنمائی کے لیے بنیادی سرچشمہ اور مشعلِ راہ ہیں۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے بانیِ پاکستان کے یومِ وفات کی مناسبت سے جاری کردہ رسمی بیان میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانیٔ پاکستان کی ان گنت خدمات، بصیرت اور تاریخی قربانیوں کو دنیا کی تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظمؒ کا پیش کردہ تصورِ پاکستان ایک بنیادی طور پر مضبوط، خوددار، جدید، خودمختار، ہر شعبے میں ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست کی کامل عکاسی کرتا تھا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بابائے قوم کی لازوال قیادت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے برصغیر کے منتشر مسلمانوں کو ایک واحد اور واضح مقصد کے پرچم تلے متحد کر کے آزادیِ ہند اور قیامِ پاکستان کی عظیم جدوجہد کو کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم کا یومِ وفات پوری قوم کے لیے قائداعظمؒ کی لازوال قومی خدمات، تاریخی سرفروشی اور عظیم جدوجہد کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے دیے گئے بلند افکار و نظریات پر ازسرنو غور کرنے کا ایک انتہائی اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے ملک کو درپیش معاشی و انتظامی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظمؒ کے سنہری فرمودات پر روح کے مطابق عمل درآمد ہی اس وقت پاکستان کو درپیش تمام درپیش معاشی و سیاسی چیلنجز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد، مضبوط نظم و ضبط اور قانون کی بلا تفریق پاسداری قائد اعظمؒ کے حقیقی پاکستان کی تعمیر کے سب سے بنیادی اور بنیادی اصول ہیں۔

رانا تنویر حسین نے اپنے پیغام کے اختتام پر تمام شہریوں پر زور دیا کہ تمام تر ذاتی، گروہی اور سیاسی مفادات سے یکسر بالاتر ہو کر قومی یکجہتی، سالمیت اور ملکی ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے خوابوں کی حقیقی تعبیر صرف اور صرف ایک مستحکم، معاشی طور پر خودمختار، مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تشکیل کے ذریعے ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس: پاکستان میں 15 اور 16 نومبر کو ہونے والے ای سی او کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں رواں سال 15 اور 16 نومبر 2026ء کو منعقد ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے تاریخی کونسل آف منسٹرز اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا گیا۔

جمعہ کے روز ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو ای سی او کونسل آف منسٹرز کے متوقع اجلاس کی اب تک کی تیاریوں، مجوزہ ورکنگ پروگرام، اجلاس کے ایجنڈے، رکن ممالک کے وزرائے خارجہ و نمائندگان کی ممکنہ شرکت، لاجسٹکس اور دیگر تمام سفارتی و انتظامی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ فراہم کی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آئندہ کونسل آف منسٹرز اجلاس کی انتظامی و سفارتی پیش رفت کا باریک بینی سے احاطہ کیا اور تمام اہم امور پر متعلقہ حکام کو فوری نوعیت کی ضروری ہدایات جاری کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی اہمیت کو اجاگر کیا اور خطے میں آزادانہ تجارت، مواصلاتی روابط، توانائی کے تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں اس تنظیم کے متحرک کردار کو پاکستان کی جانب سے دی جانے والی ترجیحی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام کو واضح طور پر ہدایت کی کہ پاکستان کی میزبان میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کو ہر لحاظ سے نتیجہ خیز، بااثر اور کامیاب بنانے کے لیے تمام تر سیکیورٹی و لاجسٹک انتظامات وقت سے پہلے اور جامع انداز میں مکمل کیے جائیں۔

دفتر خارجہ میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے تمام متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز اور اعلیٰ سفارتی افسران نے شرکت کی اور نائب وزیراعظم کو تیاریوں کے مختلف مراحل سے آگاہ کیا۔

زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطے اور شراکت داری کی اشد ضرورت ہے: وزیراعظم شہباز شریف

منصور احمد,September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فی ایکڑ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے، زراعت کے روایتی شعبے میں جدت لانے، لائیو سٹاک کی جدید بنیادوں پر ترقی اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور تمام صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر رابطہ، یکسانیت اور مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی بین الاقوامی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم آفس کے پریس ونگ سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک کے زرعی شعبے کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی، خوراک کی خودمختاری اور مجموعی استحکام میں کلیدی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور لائیو سٹاک کو منافع بخش بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرونِ ملک تعینات تمام پاکستانی کمرشل افسران عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لیے اپنا فعال اور موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کسانوں کی سہولت کے لیے دستیاب موبائل ایپ سے متعلق آگاہی مہم چلانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مصنوعات میں ‘ویلیو ایڈیشن’ یقینی بنانے کا حکم دیا۔

اجلاس کو دی گئی تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی زرعی برآمدات کا حجم 5.18 ارب ڈالر رہا، جن میں چاول، فشریز، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی نمایاں ترین برآمدی مصنوعات رہیں۔ اجلاس میں زرعی برآمدات کو پائیدار بنانے کے لیے مکمل ‘ویلیو چینز’ تشکیل دینے کی تجویز منظور کی گئی اور نشاندہی کی گئی کہ چین، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستانی زرعی برآمدات کے لیے سب سے اہم اور بڑی مارکیٹس ہیں۔

اجلاس کے دوران نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکیورٹی کونسل کو مکمل طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی باضابطہ نمائندگی کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک گیر سطح پر ‘ڈیجیٹل فارمرز ڈائری-ایگری سٹیک’ کی تشکیل کی جدید تجویز پیش کی گئی، جس کے تحت ملک بھر کے تمام کسانوں، زرعی زمینوں کے ریکارڈز، مٹی اور پانی کی جانچ کی تفصیلات کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بہتر زرعی نتائج اور عالمی معیار کی پابندی کے لیے ‘پاک-گیپ’

کا باقاعدہ نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ زرعی برآمد کنندگان کی ہمت افزائی کے لیے خصوصی زرعی فنانسنگ اور مالیاتی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس اہم اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت برائے قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ڈولفن سکواڈ کی لاہور میں بڑی اور کامیاب کارروائی: شیخوپورہ، اوکاڑہ اور لاہور پولیس کو مطلوب 8 مفرور ملزمان گرفتار

کاشف عباسی , September 11,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ڈولفن سکواڈ نے ایک موثر اور کامیاب سمارٹ آپریشن کے دوران شیخوپورہ، اوکاڑہ اور لاہور پولیس کو سالہا سال سے مطلوب 8 خطرناک اشتہاری اور مفرور ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے یہ تمام 8 ملزمان گزشتہ 8 سال کی طویل مدت سے پنجاب کی مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت سنگین مقدمات میں مسلسل مفرور اور روپوش چلے آ رہے تھے۔

ڈولفن سکواڈ نے لاہور شہر کے مختلف اور حساس علاقوں میں خصوصی “سٹاپ اینڈ سرچ” ڈرائیو اور چیکنگ کارروائی کے دوران ان تمام مفرور ملزمان کو گھیر کر حراست میں لیا۔

لاہور پولیس کے باضابطہ ترجمان کے مطابق عدالتی مفرور اور اشتہاری ملزمان سہیل، سجاول، یاسین اور ان کے دیگر ساتھیوں کو فوری طور پر قانونی اور ضابطے کی مزید سخت کارروائی کے لیے متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: افغان خارجی سمیت 4 دہشت گرد ہلاک، وزیر داخلہ محسن نقوی کا خراجِ تحسین

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے اہم ضلع کرم میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے انتہائی کامیاب اور بروقت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر فورسز کے جوانوں اور کمانڈرز کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع اور سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع کرم میں کی گئی اس کامیاب کارروائی کے دوران خطرناک افغان خارجی سمیت فتنہ الخوارج کے 4 ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

اپنے ایک اہم مذمتی و تحسینی بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، ملٹری انٹیلی جنس اور بروقت و حتمی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں پرامن فضا قائم کرنے اور امن و امان کی بحالی کے لیے ہماری پاک افواج اور سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور پیہم کوششیں بلاشبہ لائقِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر اور جری جوان پوری قوم کا حقیقی فخر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا اور تمام سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل اور حتمی خاتمے تک تمام پاکستانی شہری اپنی بہادر افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے: امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا عزم

محمود احمد, September 11,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

ایران کے صدر مسعود پزشکیان ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کی عالمی تنظیم برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں باضابطہ شرکت کے لیے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔

ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان اپنے دورے کے دوران برکس کے مرکزی سربراہی اجلاس، بین الاقوامی اقتصادی سربراہی اجلاس اور برکس رہنماؤں کے اہم بند کمرہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ایرانی صدارتی دفتر نے بتایا کہ مسعود پزشکیان کے ان تمام خطابات کا بنیادی موضوع جامع عالمی طرزِ حکمرانی کی تشکیل، منصفانہ اقتصادی نظام کا فروغ اور کثیرالجہتی (ملٹی لیٹرل) بین الاقوامی نظام کو مزید مضبوط و فعال بنانا ہوگا۔

بھارت کی میزبان حکومت کی جانب سے نئی دہلی میں منعقد کیے جانے والے اس اہم برکس اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر ممتاز عالمی رہنماؤں میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں، جس کے باعث اس عالمی فورم کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

نئی دہلی روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا بنیادی مقصد واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ برکس بلاک میں ایران کی فعال شمولیت اور شرکت کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امریکہ کی یکطرفہ اور جارحانہ معاشی و سیاسی پالیسیوں کا موثر انداز میں مقابلہ کرنا اور ایک متوازن عالمی نظام قائم کرنا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق، نئے برکس بینک (نیو ڈویلپمنٹ بینک) کے دائرہ کار کے تحت آئندہ تمام تر مشترکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور تجارتی مالیات کو امریکی ڈالر پر کسی بھی قسم کا انحصار کیے بغیر فروغ دیا جائے گا، تاکہ رکن ممالک کے اقتصادی و تجارتی مفادات کو عالمی معاشی دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکے۔

لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت کا بڑا فیصلہ: 6 سالہ بچی کے ساتھ جنسی استحصال کی کوشش پر ملزم اصغر کو 14 سال قید کی سزا

منصور احمد,September 11,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی خصوصی اینٹی ریپ عدالت نے چھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی استحصال اور ریپ کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر ملزم اصغر کو 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے مالی جرمانے کا باضابطہ حکم سنا دیا ہے۔

یہ اہم اور عبرتناک فیصلہ خصوصی اینٹی ریپ عدالت کے فاضل ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے کیس کا مکمل ٹرائل اور دلائل مکمل ہونے کے بعد سنایا۔

اس افسوسناک واقعے کا باضابطہ مقدمہ 24 مارچ 2025ء کو لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں متاثرہ چھ سالہ بچی کے والد کی مدعیت میں نامزد ملزم اصغر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پولیس میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں متاثرہ بچی کے والد نے موقف اختیار کیا تھا کہ 23 مارچ 2025ء کی شام جب وہ اپنے گھر پہنچے تو ان کی چھ سالہ بیٹی نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کا ایک محلے دار اصغر اسے بہلا پھسلا کر اپنے گھر لے گیا اور وہاں اس کے ساتھ ریپ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم معصوم بچی کے بروقت شور مچانے پر ملزم گھبرا کر بچی کو اپنے گھر میں ہی چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔

لاہور پولیس نے اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 377 بی شامل کی تھی، جو کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ہر قسم کے جنسی استحصال اور زبردستی پر عائد کی جاتی ہے۔ یہ قانونی طور پر ایک سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم ہے جس میں قانون کے تحت کم از کم سزا 14 برس اور زیادہ سے زیادہ 20 سال قید مقرر ہے۔

کیس کی نوعیت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے اس مقدمے کا مکمل چالان خصوصی اینٹی ریپ عدالت میں بھیجا، جہاں فاضل عدالت نے ملزم پر 7 جولائی 2025ء کو باضابطہ فردِ جرم عائد کی تھی۔ ٹرائل کے آغاز پر ملزم نے صحتِ جرم سے صاف انکار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے باقاعدہ شہادتوں اور گوابان کی طلب کا سلسلہ شروع کیا۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے سینئر پراسیکیوٹر رضوان محمود نے بتایا کہ اس حساس کیس میں استغاثہ کی جانب سے کل 8 گواہان نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے اور سائنسی و طبی ثبوت کے طور پر میڈیکل رپورٹ بھی باقاعدہ مثلِ مقدمہ کا حصہ بنائی گئی۔

دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے تمام گواہان کے بیانات، فورنسک و میڈیکل رپورٹس، دیگر ٹھوس شواہد اور پراسیکیوشن کی جانب سے دیے گئے حتمی دلائل کی روشنی میں ملزم اصغر کو بلا شبہ قصوروار قرار دیا اور اسے 14 سال قید با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا فیصلہ سنا دیا۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی: مزار قائد پر گورنر سندھ نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی حاضری

منصور احمد,September 11,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی برسی کے پروقار اور عقیدت مندانہ موقع پر گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کے اراکین کے ساتھ مزار قائد پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک و قوم کی سلامتی و ترقی کے لیے باوقار فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ نمائندگان نے بھی مزار قائد پر حاضر ہو کر پھولوں کے گلدستے رکھے اور قومی قائد کو سلامی پیش کی۔

مزار قائد کے احاطے میں صحافیوں و میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بانیِ پاکستان قائد اعظم کے رہنما اصولوں اور افکار کی روشنی میں متحد و متفق رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے قیامِ پاکستان کے لیے اپنا آرام، وقت اور تمام ذاتی مفادات قربان کر دیے تھے، اس لیے اب ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ملک کے اہم فیصلوں کو باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور اتفاقِ رائے سے آگے بڑھائیں۔

پراُمن احتجاج سے متعلق ایک سوال پر گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری اور بنیادی حق ہے، تاہم احتجاجی سیاست کے دوران عام شہریوں، ہسپتال جانے والے مریضوں اور سکول و کالج جانے والے طلبہ و طالبات کو درپیش مشکلات کو ملحوظِ خاطر رکھنا لازمی ہے۔ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کلی طور پر آزاد عدلیہ کے اختیارات میں آتا ہے، اگر عدالت عالیہ یا عظمٰی انہیں بے گناہ قرار دیتی ہے تو انہیں باقاعدہ قانونی ریلیف مل جائے گا، جبکہ حکومتِ وقت عدالتی کارروائی اور فیصلوں میں قطعی مداخلت نہیں کر سکتی۔ نہال ہاشمی نے مزید کہا کہ وہ سندھ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام اور صوبائی حدود کے بارے میں واضح کیا کہ صوبائی حدود میں تبدیلی آئینی راستے کے بغیر ناممکن ہے۔ آئینِ پاکستان میں درج طریقہ کار کے مطابق اس کے لیے اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ باقاعدہ قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری اور آزاد معاشرے میں ہر شہری کو سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی بات کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن عملی اور قانونی قدم اٹھانے کے لیے آئینی طریقہ کار پر پورا اترنا پڑے گا۔

مراد علی شاہ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان جون کے مہینے میں این ایف سی ایوارڈ پر پہلے ہی کامل اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ آئین کے مطابق جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر اس ملک کو تمام صوبوں کے مشترکہ تعاون سے مضبوط اور خوشحال بنانا ہے۔

گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ دونوں رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گرد عناصر کے خلاف پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے حال ہی میں کیے گئے کامیاب آپریشنز پر فورسز کے بہادر جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے ناسو سے مکمل پاکیزگی اور خاتمے تک اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ان سے بالمشافہ ملاقات کر کے گورنر سندھ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا سعودی عرب کی دفاعی خود مختاری کی کامل حمایت کا اعادہ؛ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کی فوری رہائی اور سیاسی تصفیے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 11,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن اور خطے میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سلامتی کونسل کے بلائے گئے ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے مملکتِ سعودی عرب کے مختلف شہروں بالخصوص ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں حوثی گروپ کی جانب سے شہری آبادی اور معاشی اہداف پر کیے گئے فضائی و میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کی جانب سے یمن کی تازہ ترین صورتحال پر دی گئی تفصیلی بریفنگ کو سراہا اور اجلاس میں مملکتِ سعودی عرب اور یمن کے معزز مستقل نمائندگان کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سرحدوں اور معاشی تنصیبات پر حوثیوں کے یہ غیر قانونی اقدامات سعودی عرب کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس سے یمن کے تنازع کو پرامن اور پائیدار سفارتی راستے سے حل کرنے کی تمام تر جاری کوششوں کو شدید ترین دھچکا پہنچ رہا ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیراعظم پاکستان کے جامع موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس نوعیت کے تمام بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے اتلاف کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی جانب سے برادر ملک سعودی عرب کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، سیکیورٹی اور پائیدار خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کو اپنے علاقے، شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ کسی بھی بیرونی عسکری خطرے کے مقابلے میں اپنے تمام قومی اثاثوں کا دفاع کرنے کے جائز اور قانونی حق کی مکمل تائید کرتا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ یمن کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ مختلف محاذوں پر جاری عسکری کارروائیوں میں اضافہ، بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے پیہم حملے، سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر بمباری اور یمن کے اندر بگڑتا ہوا انسانی بحران عالمی برادری کے لیے گہرے تحفظات کا باعث ہے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ان پیش رفت کے پورے خطے پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے مزید تباہی کو روکنے کے لیے سفارت کاری کو فوراً متحرک کرنا ہوگا تاکہ 2022ء سے برقرار قائم شدہ نسبتاً پرسکون صورتحال کو دوبارہ بکھرنے سے بچایا جا سکے۔

پاکستانی سفیر نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع، یمنی قیادت میں اور یمنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کو بحال کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ یمن میں سنگین انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر انسانی امداد اور مالی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

اس موقع پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے عملے، انسانی امدادی کارکنوں اور سفارتی اہلکاروں کو حوثیوں کی جانب سے من مانے طریقے سے حراست میں رکھنے کے عمل کی بھی شدید مذمت کی اور ان تمام افراد کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ پاکستان نے اپنے خطاب کے اختتام پر سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے یکجا ہو کر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور پرامن سیاسی تصفیے کے لیے متحد رہنے کا مطالبہ کیا۔

ایران کا سرکاری بینک سپہ جرمنی میں دیوالیہ: فرینکفرٹ شاخ مالیاتی واجبات کی ادائیگی میں ناکام

محمود احمد, September 10,2026

برلن (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

جرمنی کے بااختیار وفاقی مالیاتی نگران ادارے بافن نے ایران کے سرکردہ سرکاری بینک “بینک سپہ” کی جرمنی کے تجارتی مرکز فرینکفرٹ میں قائم باضابطہ شاخ کو اپنے تمام مالیاتی قرضوں اور دیگر تمام انتظامی و تجارتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے یکسر قاصر قرار دے دیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی مالیاتی نگران ادارے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی یہ جرمن شاخ اب اپنے کھاتے داروں اور تجارتی صارفین کی جمع شدہ کروڑوں یورو کی رقوم واپس کرنے کی عملی و قانونی پوزیشن میں بالکل نہیں رہی ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے اس سخت قانونی نوٹس کے بعد جرمنی کی بینکاری دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے بینک سپہ کی اہم جرمن شاخ یورو زون کے سب سے اہم اور بنیادی مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں واقع ہے، جو نہ صرف جرمنی کا معاشی حب ہے بلکہ جہاں یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کا مرکزی دفتر بھی قائم ہے۔

ایران کے اس بینک کی جرمن سرگرمیاں اور تجارتی لین دین اس سے قبل بھی جرمن مالیاتی نگران ادارے کی خصوصی توجہ اور کڑی نگرانی کا مرکز رہے ہیں۔ بافن نے اس سے قبل نومبر 2017ء کے دوران بھی فرینکفرٹ میں قائم بینک سپہ کی اس شاخ کو اگلے حکمِ ثانی تک صارفین یا تجارتی کمپنیوں کو نئے قرضے جاری کرنے سے سخت قانونی حکم کے تحت روک دیا تھا۔

اس وقت بافن کی جانب سے عائد کی جانے والی اس پابندی کی حتمی یا تفصیلی وجوہات میڈیا کے سامنے عام نہیں کی گئی تھیں اور یہ بھی واضح نہیں ہو سکا تھا کہ نگران ادارے کے شدید تحفظات بینک کی طرف سے دیے گئے مجموعی قرضوں کے حجم پر تھے یا صارفین کے قرضوں کی واپسی سے متعلق معاہدوں اور قانونی طریقہ کار پر مرکوز تھے۔

جرمن مالیاتی اتھارٹی کے موجودہ حتمی فیصلے اور بینک کو نااہل قرار دیے جانے سے جرمنی میں ایران کے سرکاری بینک سپہ کی مالیاتی صورتحال، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ اور صارفین کے کروڑوں روپے کے واجبات کی بحفاظت ادائیگی کی صلاحیت پر انتہائی سنجیدہ عالمی اور قانونی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی جائیں گے: بیجنگ کا باضابطہ اعلان

محمود احمد, September 10,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

چین کی وزارت خارجہ نے باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ صدر شی جن پنگ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خاص دعوت پر 12 اور 13 ستمبر کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کا اہم دورہ کریں گے، جہاں وہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں چین کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کریں گے۔

بیجنگ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے اس اہم دورۂ بھارت کو چین اور بھارت کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کی بحالی اور برکس بلاک کے تمام رکن ممالک کے باہمی معاشی و سیاسی تعاون کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں عالمی معاشی صورتحال، کثیر قطبی نظام اور علاقائی تحفظ سے متعلق چینی پالیسی کا حتمی خاکہ پیش کریں گے۔

سینیئر چینی قیادت کی آمد اور عالمی رہنماؤں کے تحفظ کے پیش نظر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں سیکیورٹی کے بے مثال اور انتہائی سخت انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق دہلی پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ حساس علاقوں بالخصوص تغلق روڈ کے پورے زون میں تقریباً 500 جدید ترین سی سی ٹی وی کیمرے اور خودکار سینسرز نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ تمام تر رفت و آمد، سیکیورٹی اور سمارٹ نگرانی کے انتظامات کو فول پروف اور انتہائی موثر بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ برکس دنیا کی تیز ترین اور ابھرتی ہوئی بڑی ملکی معیشتوں کے درمیان قائم اقتصادی و تجارتی تعاون کا ایک معتبر عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اس اہم اتحاد کا نام ابتدائی طور پر اس کے بانی ممالک یعنی برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کے انگریزی ناموں کے پہلے حروف کے ملاپ سے تشکیل پایا تھا، جس میں بعد ازاں دیگر اہم معیشتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

برکس فورم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی، تکنیکی، سیاسی اور مالیاتی شعبوں میں مضبوط تعاون کو فروغ دینا اور دنیا کے سامنے مغرب کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی کردار اور خودمختاری کو موثر انداز میں مضبوط کرنا ہے۔

یمن میں فضائی حملوں کی نئی لہر: حوثیوں کا سعودی عرب کے 40 بمبار حملوں کا دعویٰ، باب المندب میں شدید کشیدگی

محمود احمد, September 10,2026

صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی عسکری گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف تزویراتی (اسٹریٹجک) اور ساحلی علاقوں میں تقریباً 40 سے زائد شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ سنسنی خیز دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب حملوں اور زمینی جھڑپوں میں یکبارگی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حوثی انتظامیہ سے وابستہ سرکاری خبر رساں ادارے سبأ کے مطابق سعودی طیاروں نے تعز، الحدیدہ، الجوف اور مأرب کے اہم صوبوں میں قائم عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 40 فضائی حملے کیے، تاہم ان شدید حملوں سے متعلق حوثیوں کے اس دعوے کی کسی بھی غیر جانبدار یا آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق یہ خطرناک پیش رفت سعودی عرب کے سرحدی و جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حالیہ تباہ کن میزائل اور ڈرون حملوں کے فوری بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم قائم ملٹری اتحاد کے باضابطہ بیانات کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے گنجان آباد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط اور جازان کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد جدید بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون داغے تھے۔

یمنی دفاعی رپورٹس کے مطابق یمن میں دوبارہ سے ابھرنے والی اس بدترین عسکری کشیدگی نے سال 2022ء کے دوران فریقین کے مابین قائم ہونے والے نازک اور تاریخی معاہدے کو انتہائی شدید دباؤ اور داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان چند انتہائی اہم صوبوں اور تیل پیدا کرنے والے علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کی لڑائی بار دیگر شدت اختیار کر چکی ہے۔

دریں اثنا، بحیرہ احمر کی عالمی اہمیت کی حامل باب المندب کی آبنائے کے اطراف بھی سیکورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجو بحیرہ احمر کے انتہائی اہم ساحلی علاقوں اور چوکیوں پر اپنی حتمی پوزیشنز مضبوط کرتے ہوئے اس عالمی اہمیت کی حامل تجارتی بحری گزرگاہ کے بالکل قریب تک پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو باہم جوڑنے والا دنیا کا وہ اہم ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر عالمی تجارت اور خام تیل و توانائی کا ایک بڑا اور اہم حصہ دوسرے براعظموں کو منتقل ہوتا ہے۔

میر رضا علی کی پراسرار موت کا معاملہ: سندھ حکومت کا کامل، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کا اعادہ

محمود احمد, September 10,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی کی پُراسرار اور حساس موت کی تحقیقات کے لیے قائم شدہ عدالتی کمیشن کے سامنے خود پیش ہو کر حکومتِ سندھ کی جانب سے کامل، منصفانہ، آزادانہ اور مکمل شفاف انکوائری میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ حکومتِ سندھ اس عدالتی کمیشن کی کارروائی، تحقیقات اور قانونی طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہرگز نہیں چاہتی اور کمیشن کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں کہ وہ بلا خوف و خطر اپنی تحقیقات کو آگے بڑھائے۔

سندھ ہائی کورٹ میں جمعرات کے روز کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے روبرو پیشی کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے دوران ایک غلط فہمی جنم لے گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے کمیشن کو کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق کسی قسم کی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی متوفی میر رضا علی کے رنجیدہ اہلخانہ کے اٹھائے گئے قانونی سوالات کے جوابات دینے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بات کی گئی تھی۔

بعد ازاں کمیشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تحریری حکم نامے میں صوبائی وزیر داخلہ کی اس فوری اور واضح وضاحت اور حکومتِ سندھ کے مسلسل اور مکمل تعاون کی فراہم کردہ یقین دہانی کو سراہا گیا۔ میر رضا علی کے متاثرہ خاندان کے نامور وکیل جبران ناصر نے بھی عدالتی فورم پر استدعا کی کہ صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت اور کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کی اس یقین دہانی کو باقاعدہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ اس پیش رفت کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمیشن کے فاضل سربراہ کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمی اور تحفظات کا یکسر خاتمہ ہو گیا۔

عدالتی کمیشن نے کیس کی تمام تر کارروائی آئندہ پیر 14 ستمبر 2026ء کو صبح 11 بجے سے دوبارہ شروع کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید اور متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او عدیل افضل کو مقررہ تاریخ پر تمام ضروری دستاویزی ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے لیے باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب کمیشن کو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کا موصول ہونے والا جواب نامکمل، غیر تسلی بخش اور مبہم قرار دیتے ہوئے کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو 15 ستمبر کو ذاتی طور پر پیش ہو کر اپنے جواب کی تفصیلی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سماعت کے دوران فاضل جج جسٹس عمر سیال نے صوبائی وزیر داخلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متوفی کے غم زدہ اہلخانہ کے اعتماد کو مکمل طور پر بحال رکھنا اس قانونی انکوائری کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلخانہ کے ذہنوں میں بہت سے پیچیدہ سوالات موجود ہیں اور حکومتِ سندھ و وزیراعلیٰ کی جانب سے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بلاشبہ قابلِ تعریف ہے، تاہم خاندان کا اعتماد متاثر ہونے کے باعث کمیشن کے لیے یہ ایک بے حد مشکل اور حساس ذمہ داری ہے۔

جسٹس عمر سیال نے مزید واضح کیا کہ متوفی کے خاندان کے وکیل کو تمام ضروری سوالات اٹھانے کی قانون کے مطابق مکمل اجازت حاصل ہے اور گزشتہ سماعت پر سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کے اپنائے گئے رویے پر کمیشن نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ کو طلب کرنے کا بنيادی مقصد حکومتِ سندھ کے موقف اور کامل تعاون کے بارے میں عام عوام اور متاثرہ خاندان کا اعتماد بحال کرنا تھا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کے سربراہ کو یقین دلایا کہ حکومتِ سندھ اس باوقار کمیشن کی ہر بات پر پورا اعتماد رکھتی ہے اور یہ تحقیقات جس سمت بھی جائیں، حکومت اصل ملزمان تک پہنچنے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنا مکمل تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمیشن کو یہ کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس بھی ذمہ دار یا شخص سے چاہے سوال کرے۔ انہوں نے اہلخانہ کے دکھ اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے پچھلی سماعت کی صورتحال پر کمیشن سے معذرت بھی کی۔

دوسری جانب میر رضا علی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے متوفی کے بزنس پارٹنر احمد سے متعلق سامنے آنے والے بعض سنگین الزامات اور ان کے وکیل کی طرف سے موصولہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن سے استدعا کی کہ احمد کو دوبارہ کمیشن کے سامنے طلب کیا جائے تاکہ وہ اگر کوئی مزید موقف یا معلومات دینا چاہیں تو ریکارڈ پر لا سکیں۔ کمیشن نے جبران ناصر کو ہدایت کی کہ اس نقطے پر باضابطہ تحریری درخواست جمع کرائی جائے، جس پر وکیل صفائی نے جلد درخواست دائر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔