پاکستان کو افریقی منڈیوں کے ساتھ تجارتی و معاشی روابط مضبوط بنانے چاہئیں: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

Spread the love

کاشف عباسی , September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں کو وسعت دیتے ہوئے بالخصوص افریقی براعظم کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں، تاکہ ملک کے تزویراتی جغرافیائی محل وقوع اور قدرتی وسائل سے پائیدار معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

وہ اسلام آباد میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں افریقی و دیگر دوست ممالک کے سفیروں، ڈین آف دی ڈپلومیٹک کور عطا جان مملوموف، وفاقی حکام، تاجر رہنماؤں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا معدنیات، تیل و گیس اور آبی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے اور ان شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے خطے میں روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کونسل کے سرپرست اعلیٰ حامد اصغر خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تجارت اور سفارتی روابط کی مضبوطی کے لیے ان کا وژن اہم کردار ادا کرے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ پاکستان کو روایتی منڈیوں پر انحصار کم کرتے ہوئے افریقہ کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کے سرپرست اعلیٰ حامد اصغر خان نے افریقہ کو “مواقع کی سرزمین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی، ادویات، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تقریب میں ایف پی سی سی آئی (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام، وزیراعظم کے معاون خصوصی سردار یاسر الیاس، یو بی جی کے سیکرٹری جنرل ظفر بختاوری، اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر سردار طاہر محمود اور کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد ملک نے بھی خطاب کیا اور دونوں خطوں کے درمیان باہمی تجارتی و معاشی شراکت داری کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کی جانب سے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب اور اس کے باضابطہ بیانات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ کونسل کا بنیادی ہدف پاکستان کی ’لک افریقہ Policy‘ کے تحت تجارتی حجم اور باہمی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔

ماخذ: پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC)، خیبر پختونخوا گورنر ہاؤس پریس ریلیز، ایف پی سی سی آئی۔