مصنوعی ذہانت کی پیش قدمی سست کرنے کی تجویز سے عالمی منڈیوں میں زلزلہ: AI اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے شیئرز کریش کر گئے

Spread the love

محمود احمد, September 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی ذہانت (AI) کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے AI ماڈلز کی انتہائی تیز رفتار ترقی کو سست کرنے اور حفاظتی اقدامات کو ترجیح دینے کے انتباہ کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں AI اور سیمی کنڈکٹر اسٹاکس میں شدید مندی دیکھنے کو ملی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں دباؤ کی اصل لہر اس وقت شروع ہوئی جب مصنوعی ذہانت کی سرکردہ کمپنی Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈئی (Dario Amodei) نے زور دیا کہ جدید AI نظام کے غلط استعمال اور غیر معمولی خودمختاری سے پیدا ہونے والے خطرات کو روکنے کے لیے اس کی ترقی کی رفتار کو وقتی طور پر سست کرنا لازم ہو چکا ہے۔ اس موقف کی غیر معمولی اور غیر متوقع حمایت OpenAI کے سی ای او سیم آلٹ مین (Sam Altman) اور xAI کے سربراہ ایلون مسک (Elon Musk) کی جانب سے بھی سامنے آئی۔

ایشیا، یورپ اور امریکی وال اسٹریٹ پر شدید اثرات:

ٹیک انڈسٹری کے تین بڑے ناموں کے اس اتفاقِ رائے نے سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پیدا کر دی کہ اگر AI ٹیکنالوجی کی توسیع رکتی ہے یا سست ہوتی ہے تو اس شعبے میں کی جانے والی اربوں ڈالر کی نجی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے منافع کا تخمینہ شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

  • ایشیا: جاپان کی نامور تکنیکی سرمایہ کار کمپنی SoftBank کے شیئرز میں 11 فیصد کی ڈرامائی کمی دیکھی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی مشہور چپ ساز کمپنی SK Hynix کے حصص 6 فیصد سے زیادہ گر گئے۔ کورین انڈیکس KOSPI میں مجموعی طور پر 3.3 فیصد کی مندی ریکارڈ کی گئی۔
  • یورپ: یورپ کی سب سے بڑی سیمی کنڈکٹر ایکویپمنٹ ساز ڈچ کمپنی ASML کے حصص میں تقریباً 6 فیصد کی کمی ہوئی۔
  • امریکا: وال اسٹریٹ میں پری مارکیٹ ٹریڈنگ کے دوران Nasdaq 100 کے فیوچرز 1.8 فیصد تک نیچے آ گئے، جبکہ عالمی چپ ساز جائنٹ Nvidia اور Intel پر بھی فروخت کا شدید دباؤ رہا۔

حفاظتی خدشات بمقابلہ تجارتی مفادات:

اگرچہ بعض مالیاتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ AI ڈیٹا سینٹرز، چپس اور بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کے لیے طویل المدتی مانگ مضبوط رہے گی اور بڑی کمپنیاں اپنی فنڈنگ جاری رکھیں گی، تاہم سرمایہ کار اس بات پر پریشان ہیں کہ آیا ڈیٹا سینٹرز کے لیے اربوں ڈالر کا خرچ فوری منافع بخش ثابت ہوگا یا نہیں۔

اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی بانڈ ییلڈز (Bond Yields) میں اضافے نے عالمی مارکیٹ کے منفی جذبات کو مزید ہوا دی ہے، جس سے ٹیکنالوجی شعبے کی حساسیت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ معاشی و تکنیکی رپورٹ نیویارک اسٹاک ایکسچینج، نیسڈیک (Nasdaq) کی رپورٹس، اینتھروپک، اوپن اے آئی کے آفیشل بیانات اور عالمی مالیاتی نیوز ایجنسیوں کی بریفنگز کی روشنی میں ایڈٹ کی گئی ہے۔

ماخذ: وال اسٹریٹ جرنل، بلومبرگ فائنانس، نیسڈیک ڈیٹا، اینتھروپک پریس روم۔