انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا عالمی قوانین، آزادانہ نگرانی اور اے آئی کی سخت ریگولیشن کا فوری مطالبات کے ساتھ زور

روزینہ اسماعیل, September 08,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو موثر کنٹرول میں لانے کے بڑھتے ہوئے عالمی مطالبات کی پرزور حمایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضابطے کے بے قابو چھوڑ دیا گیا تو یہ بالآخر “انسانیت کے وجود کے لیے تباہ کن خطرہ” ثابت ہو سکتی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی (وام) کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ پابند قوانین، آزادانہ نگرانی اور واضح بین الاقوامی حدود کے بغیر مصنوعی ذہانت کا نظام انسانوں کے قابو سے باہر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے اس سنگین خدشے کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز اتنے زیادہ طاقتور ہو سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بنانے والے (ڈویلپرز) بھی ان پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکیں۔

وولکر ترک نے سائنسی امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ای آئی ٹیکنالوجی جو اپنے تجرباتی اور آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا بند کیے جانے سے بچنے کے لیے اپنے ہی ڈویلپرز کو بلیک میل کرنے لگے، انتہائی خطرناک اور حد سے زیادہ طاقتور صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر جامع اور موثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

انہوں نے اے آئی کی ہوسٹنگ کرنے والے اور اس کی عالمی سپلائی چین سے منسلک تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مل کر واضح اور سخت حدود مقرر کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت دنیا بھر میں مٹھی بھر افراد اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود طاقت اور وسیع ڈیٹا جمع ہو چکا ہے، جو کہ طاقت کا خطرناک ارتکاز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کے غلام بنیں۔ انہوں نے اے آئی کے روزگار، جمہوریت، ماحولیات اور انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے متفقہ عالمی اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

١٩٦٥ء سے ٢٠٢٦ء تک دنیا کے دفاعی تصورات تبدیل ہو چکے؛ اب جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سائبر، سپیس اور اے آئی سے جیتی جائیں گی

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے یومِ فضائیہ کے تاریخی موقع پر کہا ہے کہ 1965ء سے لے کر 2026ء تک گزرنے والے ان دہائیوں میں دنیا کے دفاعی تصورات اور جنگی تزویرات میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں کسی بھی ملک کے دفاع کا تصور صرف روایتی ہتھیاروں جیسے ٹینکوں، توپوں اور جیٹ طیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت ، جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجی نئے اور انتہائی طاقتور دفاعی محاذ بن چکے ہیں۔

7 ستمبر یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری اپنے خصوصی اور فکر انگیز قومی پیغام میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، جغرافیائی سلامتی اور خودمختارانہ وجود کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی تمام دفاعی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ان نئے اور ابھرتے ہوئے افق سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں سائنسی علوم اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں پاکستان کے نوجوان ہی ملکی سلامتی اور خودمختاری کے حقیقی اور مضبوط ترین محافظ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ہائبرڈ وارفیئر کے چیلنجز کے پیشِ نظر پاکستان کو علم، تحقیق، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور اختراع کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو گراس روٹ لیول سے مضبوط بنانا ہوگا۔

پروفیسر احسن اقبال نے آئندہ دہائیوں کے دفاعی تقاضوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت ، سائبر سیکیورٹی ، بغیر پائلٹ کے آپریشنل سسٹمز، خلائی ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے سائنسی شعبے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ان شعبوں میں محض غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے گاہک کے بجائے خود تحقیق اور مقامی اختراع کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے والا خودکفیل ملک بننے کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ 2026ء کی جدید دنیا میں قومی سلامتی اب صرف عسکری یا روایتی طاقت تک محدود نہیں رہی، بلکہ مستحکم و پائیدار معیشت، باصلاحیت اور ہنر مند انسانی وسائل ، بین الاقوامی معیار کی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ناقابلِ تسخیر قومی یکجہتی بھی کسی بھی ملک کی خودمختاری کے بنیادی ستون ہیں۔

اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا انضمام وقت کی اہم ضرورت: بین الصوبائی تعلیمی اداروں کے اجلاس سے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا خطاب

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز خصوصاً مصنوعی ذہانت کا اعلیٰ تعلیم کے نظام میں مؤثر انضمام پاکستانی جامعات اور طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز اور عالمی مواقع کے لیے تیار کرنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں وفاقی و صوبائی تعلیمی اداروں کے ایک اعلیٰ سطح کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اقرار احمد خان، سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے اعلیٰ نمائندگان کے علاوہ ایچ ای سی کے کوالٹی ایشورنس اور ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن کے حکام نے شرکت کی۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے وفاق اور تمام صوبائی کمیشنز کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ مشاورت اور بہتر رابطہ کاری سے ہی ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو یکساں اور بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جامعات پر زور دیا کہ وہ اپنے اساتذہ اور طلبہ کو مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کریں، جبکہ تحقیق، جدت اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی سائنسی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ہے تاکہ وہ ابھرتی ہوئی علمی اور ڈیجیٹل معیشت میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔

اجلاس کے تمام شرکاء نے اعلیٰ تعلیمی پالیسیوں پر وسیع تر اتفاقِ رائے قائم رکھنے، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور باقاعدہ رابطوں کے سلسلہ کو قائم رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔

ایچ ای سی کے سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک کے ذریعے اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر اضلاع کے 330 سے زائد اساتذہ کی آن لائن اور آن سائیٹ تربیت؛ ایم ڈی ‘ناہے’ ڈاکٹر نور آمنہ ملک کا اختتامی تقریب سے خطاب


روزینہ اسماعیل, September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اساتذہ کے لیے چار روزہ جامع تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔

“اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لیے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے منعقدہ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری جامعات کے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کو تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کے قابل بنانا تھا۔

ایچ ای سی کے جدید ‘سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک’ کے تحت منعقدہ اس چار روزہ کورس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی جامعات سے تعلق رکھنے والے 32 اساتذہ نے ایچ ای سی ہیڈکوارٹر کے سمارٹ کلاس روم میں براہِ راست (آن سائیٹ) شرکت کی، جبکہ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے 300 سے زائد اساتذہ نے آن لائن اس تربیتی سیشن میں حصہ لیا اور ماہرین کے ساتھ سوال و جواب کیے اور فوری تفاعل گفتگو کی۔

اس اختراعی ٹریننگ کے دوران پروفیسروں اور لیکچررز کو نصاب کی جدید تشکیل، دروس کی منصوبہ بندی تدریسی مواد کی تیاری، سائنسی و تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، طلبہ کی کارکردگی پر ڈیٹا اینالیٹکس، اور امتحانی جائزے جیسے مختلف شعبوں میں AI ٹولز کے عملی اطلاق اور “انسان اور کے باہمی تعامل” کے اصولوں کی تربیت فراہم کی گئی۔

اختتامی تقریب میں نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اعلیٰ تعلیم، ریسرچ اور علم کی تخلیق کے روایتی طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔

ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے زور دیا کہ جامعات کو اپنے اساتذہ اور طلبہ کو ای آئی سے لیس ماحول کے لیے فوری طور پر تیار کرنا ہو گا، تاہم انہوں نے انبہانہ انداز میں کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران تعلیمی معیار، اخلاقی تحفظات، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو ہر صورت برقرار رکھنا ہو گا۔

عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی مساوی رسائی ناگزیر ہے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا خطاب

محمود احمد, September 02,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اور عاجلانہ اصلاحات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک بدستور نا قابلِ برداشت اور کمر توڑ غیر ملکی قرضوں کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے سربراہ نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عالمی مالیاتی و معاشی ڈھانچے میں فوری اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو مفلوج کرنے والے ان بوجھل قرضوں کے سنگین مسئلے کا ایک پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انتونیو گوتریش نے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں پر زور دیا کہ وہ غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی معاشی ترقی کی کوششوں اور مالی معاونت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا، مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اقوام متحدہ کے اپنے ڈھانچے اور ‘بریٹن ووڈز’ نظام سمیت تمام بین الاقوامی کثیرالجہتی اداروں میں انقلابی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں تاکہ ان اداروں کو آج کی جدید اور تلخ عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور بین الاقوامی فیصلے سازی میں ترقی پذیر ممالک کی متناسب نمائندگی اور اثر و رسوخ میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے خطرات و فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے فوائد صرف چند امیر یا ٹیکنالوجی میں پیش رفتہ ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ اسے دنیا کے تمام ممالک اور ان کے شہریوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور محفوظ حفاظتی ضوابط اور زیادہ جامع طرزِ حکمرانی کا طریقہ کار تشکیل دینا بے حد ضروری ہے۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کاروباری ترقی کے نئے مواقع: وزارتِ آئی ٹی اور میٹا کا چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ سے کاروباری ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “میٹا” کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس مجوزہ تربیتی پروگرام کے تحت ملک کے 9 بڑے شہروں میں ایک ہزار سے زائد کاروباری افراد کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے متعلق عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قومی ڈیجیٹل معیشت سے منسلک کرنا اور ان کی آن لائن کاروباری استعداد کار میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔

یہ پروگرام میٹا کے ایشیا پیسیفک خطے کے 12 ممالک پر مشتمل “سمال بزنس ٹریننگ پروگرام” کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو اے آئی ٹولز، جدید ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے کاروبار کو علاقائی اور عالمی سطح پر وسعت دینے کے مواقع ملیں گے۔ وزارتِ آئی ٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ اس نوعیت کی شراکت داری سے پاکستانی نوجوانوں اور تاجروں کے لیے نئے معاشی راستے کھلیں گے۔

یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ: اقوام متحدہ میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کا جامع اور نوجوانوں پر مرکوز مصنوعی ذہانت کی حکمرانی پر زور

محمود احمد, August 13,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ جامع، اخلاقی اور انسان مرکز نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کی عالمی حکمرانی کی تشکیل میں بامعنی اور فعال کردار دیا جانا چاہیے۔

انٹرنیشنل یوتھ ڈے 2026ء کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ ‘یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے پاکستان کے روشن مستقبل میں نوجوانوں کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کرتی ہے، جس کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تربیت، اے آئی تعلیم و تحقیق کے فروغ اور حکومت، تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جغرافیائی فاصلوں کو کم کرتے ہوئے بلوچستان جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون کے بغیر یہ انقلاب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان عدم مساوات کو بڑھا سکتا ہے۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے زور دیا کہ اے آئی کا مستقبل محض نئی نسل پر مسلط نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں خود اس کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو زیادہ مواقع، شمولیت اور انسانی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

عالمی تحفظ پسندی کے باوجود چین کا معاشی معجزہ: 7 ماہ میں غیر ملکی تجارت 30 ٹریلین یوآن سے متجاوز

محمود احمد, August 08,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

عالمی سطح پر معاشی سست روی، تجارتی رکاوٹوں اور تحفظ پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باوجود چین کی غیر ملکی تجارت نے غیر معمولی استحکام اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ رواں سال (2026ء) کے پہلے سات ماہ کے دوران چین کی اشیاء کی تجارت کا کل حجم 30.13 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17.3 فیصد زیادہ ہے۔

سی جی ٹی این اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس عرصے کے دوران چین کی عالمی برآمدات میں 14 فیصد جبکہ درآمدات میں 22 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رائٹرز سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں نے چینی تجارت کے ان اعداد و شمار کو متوقع اندازوں سے کہیں بہتر اور حیران کن قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی بین الاقوامی طلب نے چینی برآمدات کو زبردست تقویت بخشی ہے۔

چائنا رین مین یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر وانگ شیاؤ سونگ نے اس معاشی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کے پاس دنیا کا سب سے مکمل اور مربوط صنعتی نظام موجود ہے، جو بلا تعطل اور مؤثر سپلائی چین کو یقینی بناتا ہے۔ یہی مضبوط پیداواری بنیاد چین کی تجارتی اور معاشی پائیداری کی اصل ضامن ہے۔

چین کی اس شاندار کارکردگی کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ، ڈوئچے بینک اور دیگر معروف عالمی مالیاتی اداروں نے سال 2026ء کے لیے چین کی جی ڈی پی کی متوقع شرحِ نمو میں اضافہ کر دیا ہے، جو عالمی معیشت میں چین کے قائدانہ کردار کا واضح ثبوت ہے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر تربیتی نشست کا انعقاد: طلبہ کی غیر معمولی دلچسپی

روزینہ اسماعیل, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طلبہ ترقی و تقرری مرکز (اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر) کے زیرِ اہتمام مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید تقاضوں پر مبنی آن لائن تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے غیر معمولی اور والہانہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اس خصوصی ورکشاپ کے لیے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 293 طلبہ نے رجسٹریشن کروائی، جبکہ 116 طلبہ نے براہِ راست آن لائن سیشن میں مکمل طور پر شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران معروف کمپنی گوگل کے ماہر محمد عمر نذیر نے کلیدی سپیکر کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء کو ‘گوگل ڈویلپر گروپس’ اور یونیورسٹی کیمپس میں قائم ‘گوگل ڈویلپر گروپس آن کیمپس’ کے آپریشنز اور فوائد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان عالمی سطح کے پلیٹ فارمز سے متحرک طور پر وابستہ ہو کر اپنی فنی صلاحیتوں کو جلا بخشیں، مشترکہ طور پر جدید ٹیکنالوجی پروژیکٹس پر کام کریں، اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورک کو وسعت دیں اور موجودہ صنعتی تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

نشست کے آخری مرحلے میں ایک فکر انگیز سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں طلبہ نے اپنے اپنے مخصوص تعلیمی شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے عملی اطلاق سے متعلق سوالات کیے۔ محمد عمر نذیر نے ان کے جوابات دیتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ نفسیات کے طلبہ اسے طبی و روئیاتی تحقیق میں، شعبہ صحت کے ماہرین بیماریاں کی تشخیص میں اور لاجسٹکس کے ادارے اپنے انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کلیدی، اسٹریٹجک اور اہم فیصلوں میں انسانی سوچ اور نگرانی ہمیشہ ناگزیر رہے گی۔

ورکشاپ کے اختتام پر اسٹوڈنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عارف سلیم نے مہمانِ خصوصی محمد عمر نذیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن نے طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے عملی فوائد اور ڈیجیٹل مہارتوں سے مستفید ہونے کا شاندار موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل میں گوگل کے ساتھ آن کیمپس مزید تربیتی پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی منڈی کے معائیر کے مطابق ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات چین کی برآمدات کے نئے تین نمایاں شعبے بن گئے: عالمی سروے میں 93 فیصد سے زائد افراد کا چینی ٹیکنالوجی پر اعتماد

محمود احمد, August 01,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت ، روبوٹکس اور اختراعی ادویات اب عالمی سطح پر چین کی برآمدات کے “نئے تین نمایاں شعبے” بن کر ابھرے ہیں۔ چائنا میڈیا گروپ کے معروف بین الاقوامی نیٹ ورک ‘سی جی ٹی این’ کی جانب سے دنیا بھر کے صارفین کے لیے کیے گئے ایک جامع عالمی سروے میں 93.1 فیصد جواب دہندگان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان تین نئے شعبوں کی عالمی مقبولیت اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ چینی مصنوعات اب بین الاقوامی مارکیٹ میں محض خام سامان نہیں بلکہ اصل ٹیکنالوجی، انٹیلیجنٹ سسٹمز اور جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس عرصے میں انٹیلیجنٹ بائیونک روبوٹس کی برآمدات 10 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئیں، جبکہ ان جدید روبوٹس کی رسائی دنیا کے 90 سے زائد ممالک اور خطوں تک ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، چین کی اختراعی ادویات کی بیرونی لائسنسنگ ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

سی جی ٹی این کے سروے میں 87.7 فیصد افراد نے رائے دی کہ یہ “نئے تین نمایاں شعبے” چین کی جدید اور مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ 83.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ اب تیزی سے ماحول دوست اور ہائی ٹیک طرزِ پیداوار کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ 91.3 فیصد افراد نے اس بات کی توثیق کی کہ عالمگیر مارکیٹ میں چینی مینوفیکچرنگ کا مقابلہ اب صرف بڑے پیمانے پر پیداوار کا نہیں رہا، بلکہ یہ معیار، اعلیٰ ٹیکنالوجی، برانڈ ویلیو اور بہترین سروسز کے مجموعی فوائد میں تبدیل ہو چکا ہے۔

سروے میں شامل 89.5 فیصد سے زائد عالمی صارفین کا کہنا تھا کہ چین کے یہ “نئے تین نمایاں شعبے” عالمی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جدت اور اپ گریڈیشن کے لیے نئے اور بہترین مواقع فراہم کریں گے۔ یہ عالمی سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع کیا گیا، جس میں محض 24 گھنٹوں کے مختصر دورانیے میں دنیا بھر سے 3,339 افراد نے حصہ لے کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

اقوامِ متحدہ کی بریفنگ: پاکستان کا جامع، انسان دوست اور شمولیتی عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ 2026ء ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس اور عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے متعلق بریفنگ کے دوران ایک جامع، انسان دوست اور ترقی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا باضابطہ موقف پیش کرتے ہوئے اس بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر چین کو مبارکباد پیش کی اور ‘ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن’ کے تاریخی قیام کا پرزور خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مئی 2026ء میں اپنے دورۂ چین کے دوران اس اہم بین الاقوامی اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان اس نئی عالمی تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے زور دے کر کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مصنوعی ذہانت کی جدید معیشت میں مؤثر اور بامعنی شرکت کے لیے ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، ماڈلز، ضروری آلات اور جدید تکنیکی مہارت تک مساوی و منصفانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے نتائج کو عالمی ٹیکنالوجی تعاون کے فروغ کے لیے ایک عملی اور مؤثر لائحۂ عمل قرار دیا۔

انہوں نے مستقبل کے تکنیکی تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے پائیدار ترقی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال بڑھایا جائے اور بین الاقوامی معیارات، ڈیجیٹل تحفظ اور ضوابط کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ عالمی حکمرانی کو فروغ دیا جائے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان، چین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کو تمام انسانیت کی مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کا ضامن بنایا جا سکے۔