قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ہنگامہ، آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل پر بحث

Spread the love

منصور احمد ,May 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف قومی امور پر تفصیلی بحث کی گئی جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے طویل تقاریر پر اعتراض اٹھا دیا۔

اجلاس کے آغاز پر رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل رہی، تاہم بعد میں کورم مکمل ہونے پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔

اجلاس کے دوران مردان میں طوفان سے ہونے والے نقصانات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے متاثرین کے لیے فوری سروے اور معاوضوں کا مطالبہ کیا۔

وقفہ سوالات کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے ارکان کی طویل تقاریر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں مختصر سوال اور مختصر جواب کی روایت اپنائی جانی چاہیے۔

اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے اپنی تقریر میوٹ کیے جانے پر احتجاج کیا، جبکہ طارق فضل چوہدری نے سیلاب سے قبل لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور صوبوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر مملکت برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے ایوان کو بتایا کہ رواں برس ملک کی آئی ٹی برآمدات چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ پانچ لاکھ سے زائد بچوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے پانچ جی اسپیکٹرم نیلامی، بہتر فور جی سروس، سائبر فراڈ سے بچاؤ اور او ٹی پی و پن کوڈ کسی سے شیئر نہ کرنے سے متعلق آگاہی مہم کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے کہا کہ دس اعشاریہ دو ملین افراد کی کفالت کی جا رہی ہے جبکہ بے نظیر ہنر مند پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے۔

اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کالجوں کی فیسوں میں اضافے کے معاملے پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ صرف دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ طلبہ کو پہلے ہی پچاس فیصد رعایت دی جا رہی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دینے اور مزید اقدامات پر غور کی یقین دہانی کرائی، جبکہ نعیمہ کشور نے لیوی میں اضافے کو عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط سے جوڑا۔

اجلاس کے دوران شیر افضل مروت، شہریار آفریدی اور دیگر ارکان نے متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی، پارا چنار کے شہریوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اختیارات سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

عبدالقادر پٹیل نے صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ان کی رہائی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے اور کسی مخصوص مسلک کی بنیاد پر پاکستانیوں کی بے دخلی کا تاثر درست نہیں۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا