تائیوان معاملے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مارکو روبیو

Spread the love

محمود احمد May14,2026

واشنگٹن / بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ نے چین پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکہ سمجھتا ہے کہ طاقت کے ذریعے تائیوان کے الحاق کی کوشش ایک خوفناک غلطی ہوگی۔

اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی قیادت کے درمیان ملاقات میں تائیوان کا معاملہ زیر بحث آیا، تاہم امریکہ کی پالیسی پہلے جیسی برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کا چین کے ساتھ دوبارہ الحاق ناگزیر قرار دیا، لیکن امریکہ اس مسئلے کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعاون اور مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔

دوسری جانب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان خوشگوار ماحول میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، عالمی چیلنجز اور تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا حریف بننے کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں مدد کرنی چاہیے اور نئے دور میں تعلقات کا درست راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا اس وقت تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال سے گزر رہی ہے اور عالمی استحکام کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جنگوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا اور اختلافات کے حل کے لیے برابری کی سطح پر مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔

چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ دو ہزار چھبیس چین اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں کو چین لائے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مسائل پیدا ہوئے، انہیں بات چیت کے ذریعے جلد حل کر لیا گیا۔

ملاقات سے قبل امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا میں چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فنگ سے بھی ملاقات کی، جس میں اقتصادی اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔