

کاشف عباسی ,May 16 ,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کے مبینہ دوہرے معیار پر سوالات اٹھا دیے۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عادل خان بازئی نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے تو پھر بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر وہاں کی حکومت سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات، اضافی اختیارات اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عادل خان بازئی نے ایوان میں کہا،
“سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ موجودہ صورتحال ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔”
انہوں نے بلوچستان میں عوامی بے چینی، بدامنی اور حکومتی کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے عادل بازئی کے بعض ریمارکس کارروائی سے حذف بھی کر دیے۔
پی ٹی آئی اراکین کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتی ہے، لیکن بلوچستان میں مسلسل خراب ہوتی صورتحال پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ادھر مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے معاملات بنیادی طور پر صوبائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اراکین چاہیں تو ان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کروا دی جائے تاکہ مسائل پر براہ راست بات چیت ہو سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق قومی اسمبلی میں ہونے والی یہ بحث ملک میں سیکیورٹی، صوبائی اختیارات اور وفاقی پالیسیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔