منشیات کے خلاف گرینڈ آپریشن: کوکین سپلائر پنکی کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، منشیات کی سرپرستی کرنے والے ایس ایس پی سطح کے افسران کے خلاف بھی انکوائری جاری ہے، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو

محمود احمد june 25,2026

کراچی (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے صوبے بالخصوص وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں میں منشیات کے خاتمے کے لیے جاری مقتدر مہم کے حوالے سے اہم ترین انکشافات کیے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ملک کی سب سے بڑی اور ہائی پروفائل کوکین ڈیلر انمول عرف “پنکی” کو پولیس نے مقتدر نیٹ ورک سمیت گرفتار کر لیا ہے اور اب اسے قانون کے مطابق عبرت ناک کیفرِ کردار تک ہر صورت پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنکی ایک بین الکلیاتی کوکین سپلائر ہے، اور چونکہ کوکین ایک انتہائی مہنگی منشیات ہے، اس لیے اس کا نیٹ ورک بنیادی طور پر معاشرے کے انتہائی امیر اور مالدار طبقے کو ہی نشانہ بناتا تھا۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے محکمہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی داخلی صفائی (انٹرنل اکاؤنٹبلٹی) کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی تاریخ میں جتنا کڑا اور سخت احتساب اس وقت ہو رہا ہے، اس کی مثال کسی دوسرے ادارے میں نہیں ملتی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ منشیات فروشوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے کے الزامات کے تحت ایس ایس پی جیسے مقتدر اور اعلیٰ سطح کے پولیس افسران کے خلاف بھی اعلیٰ اختیاراتی انکوائریاں شروع کر دی گئی ہیں، کیونکہ ہمارا پہلا ہدف پولیس کے اندر چھپے ان مجرموں کا خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران صوبے بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے تحت 6,500 سے زائد چھوٹے بڑے منشیات سپلائرز کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا ہے۔

کراچی کی سیکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس پر بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ کراچی پولیس کی جدید اور مربوط حکمتِ عملی کی بدولت شہر میں گزشتہ دو سالوں کے دوران مجموعی جرائم کی شرح میں 40 فیصد تک مقتدر کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں لگ بھگ ختم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار پڑوسی ملک میں بیٹھ کر انٹرنیشنل نمبرز سے کراچی میں نیٹ ورک چلانے والے ماسٹر مائنڈز کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور ملک سے فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس “انٹرپول” کے ساتھ لائیو اور قریبی تعاون کر رہی ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 70 سے زائد خطرناک جرائم پیشہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے 4 ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ آئی جی سندھ نے اعادہ کیا کہ سندھ کا طویل پہاڑی اور وسیع سمندری بارڈر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم وفاقی حکومت اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے ساتھ مل کر نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔