موسمی تغیرات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی تعاون ناگزیر ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمی تغیرات کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مون سون کی پیشگی تیاری کے لیے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے نظام پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس بدھ کے روز یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے مقتدر عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، لہٰذا موسمی تغیرات کے قومی سطح کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا اسی ہفتے ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ مون سون کی پیشگی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی زیر نگرانی این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایک مقتدر ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو متعلقہ صوبائی اداروں سے عملی تعاون کے لیے کام کرے گی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر یہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی باقاعدگی سے ہفتہ وار ملاقاتیں کرے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی وزیر خزانہ اس کمیٹی میں مون سون کی ممکنہ تباہی کی صورت میں ہنگامی فنڈ کی تشکیل کے لیے پیشگی تیاری مکمل کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ غیر ملکی اداروں کی مالی معاونت کے تحت چلنے والے منصوبے بھی قومی و مقامی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ قومی آبی تحفظ و سلامتی کے لیے وفاقی حکومت نے اس سال مالی بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے تین سو تیس ارب روپے کی خطیر اضافی رقم مختص کی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس سال مون سون سیزن میں ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات ایک جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیے جائیں؛ تمام صوبے مقامی سطح پر خطرے سے دوچار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کے ممکنہ راستوں میں تجاوزات اور دیگر مسائل کا پیشگی موثر حل یقینی بنائیں، جبکہ مون سون کے دوران تمام ادارے اپنی مکمل ادارہ جاری و تکنیکی استعداد کار کو عوام کی سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے رواں سال مون سون کی پیشگی تیاری، ممکنہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تغیر کے رحجان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں رواں سال گرمی کی شدید لہر اور غیر معمولی موسمیاتی تغیرات کے امکانات واضح ہیں؛ پاکستان میں بھی گرمی کی شدید لہر اور جولائی کے مہینے میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں جن کے لیے مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام درکار انتظامات مقتدر سطح پر کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم نے موسمیاتی تغیر اور مون سون کی ممکنہ تباہی سے یقینی بچاؤ کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ موثر تعاون اور جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیرات جیسے قومی خطرات سے بطریق احسن نبرد آزما ہونے کے لیے باہمی تعاون اور ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔