خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے اقوام متحدہ کے وفد کی ملاقات، صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ایوانِ صدر میں اقوامِ متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ اور عالمی ادارے کے مختلف ذیلی اداروں کے نمائندوں نے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم ملاقات میں پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان کثیرالجہتی تعاون، قومی ترقیاتی ترجیحات، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، سماجی تحفظ، صحت اور پائیدار ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاتونِ اول نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ملک بھر میں پائیدار ترقیاتی اہداف اور عوامی صحت کے شعبوں میں عالمی ادارے کے فنڈز اور پروگراموں کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دورانِ بریفنگ انہیں بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ 1947ء سے پاکستان میں فعال ہے اور اس وقت ملک بھر میں اس کے تقریباً چار ہزار ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ملاقات میں صحت عامہ بالخصوص انسدادِ پولیو مہم پر خصوصی گفتگو کی گئی، جہاں آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ محمد یحییٰ نے پولیو کے خاتمے کے لیے خاتونِ اول کی مقتدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ بارہ ماہ اس مقصد کے حصول کے لیے انتہائی تزویراتی اور اہم ہوں گے۔ خاتونِ اول نے صحت کے شعبے میں جدت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ترین ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا جانا چاہیے تاکہ پولیو ویکسین کی ہر گھر تک رسائی کو سوفیصد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خواتین اور بچوں کی فلاح کے لیے جاری ’’بینظیر نشوونما پروگرام‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ اقوام متحدہ کے وفد نے مقتدر بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 41 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے اور یہ غذائی قلت بچوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران موسمیاتی چیلنجز اور حالیہ برسوں کے سیلابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے آفات سے نمٹنے اور بحالی کی کوششوں میں اقوامِ متحدہ کے تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے ’’لیونگ انڈس‘‘ اور ’’ری چارج پاکستان‘‘ جیسے مقتدر منصوبوں کو موسمیاتی موافقت اور طویل مدتی استحکام کے لیے کلیدی قرار دیا۔ سندھ میں سیلاب کے بعد صوبائی حکومت کے وسیع پیمانے پر جاری ہاؤسنگ منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسے پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔ خاتونِ اول نے اقوامِ متحدہ کے وفد کو یقین دلایا کہ بچوں کی صحت، غذائیت، تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے مقتدر مشن میں ان کی آواز عالمی ادارے کے ساتھ ہے۔ اس مقتدر ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری سمیت عالمی خوراک پروگرام، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت، یو این ایف پی اے، یو این ایچ سی آر، آئی او ایم، یونیسکو اور یو این ویمن کے اعلیٰ نمائندوں نے بھی شرکت کی۔