خصوصی بچوں کے لیے عالمی بہترین طریقہ کار اور معاون خدمات متعارف کرانے کا فیصلہ؛ حکومت پاکستان آٹزم کے حامل افراد کو جامع اور موثر ماحول فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے

روزینہ اسماعیل june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں “سینٹر آف ایکسی لینس فار آٹزم” کے ایڈوائزری بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس کی صدارت کی ہے، جس میں ادارے کی اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سے متاثرہ معصوم بچوں کے لیے جامع تعلیم، ابتدائی طبی و نفسیاتی مداخلت اور دیگر معاون خدمات کو مزید مؤثر و فعال بنانے کے تزویراتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ دفترِ خارجہ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے موقع پر حکومتِ پاکستان کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں آٹزم کے حامل تمام افراد کے لیے ایک جامع، ہمدردانہ اور مؤثر معاون ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مقتدر حکام نے کمیٹی کو اسلام آباد میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے قائم کیے جانے والے اس جدید ترین سینٹر آف ایکسی لینس کے سلسلے میں اب تک کیے گئے عملی اقدامات اور تزویراتی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر آٹزم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملک کے معروف ترین طبی و تعلیمی ماہرین کی قیمتی آراء اور تجاویز بھی طلب کی گئیں تاکہ سینٹر کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق استوار کیا جا سکے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اداروں کو سخت ہدایت جاری کی کہ ان خصوصی بچوں کی نازک ضروریات کے مطابق معیاری تعلیم، جدید تھراپی اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے دنیا بھر میں رائج بہترین تزویراتی طریقہ کار کو اپنایا جائے اور حکومت کے اس مخلصانہ عزم پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہوئے اس اسٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر آف ایکسی لینس کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔ اس مقتدر اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز برائے تعلیم و صحت اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ ترین حکام نے بھی شرکت کی۔