

کاشف عباسی , August 31,2026
تل ابیب/ایتھنز (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء
اسرائیل اور یونان کے درمیان ’اخیلس شیلڈ‘ نامی ایک تاریخی اور غیر معمولی دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے باضابطہ بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت یونان کو جدید ترین اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا، جو بیلسٹک میزائلوں سے لے کر جدید ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور یونان کے مشترکہ تزویراتی مفادات ہیں اور دونوں ممالک کو خطے میں یکساں نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ اہم دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی دفاعی برآمدات تاریخ کی بلند ترین اور ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسرائیل نے 19 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی سازوسامان اور عسکری ٹیکنالوجی برآمد کی، جو کہ 2024ء کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک اسرائیلی اسلحے اور دفاعی سسٹمز میں دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اسے عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کی کارکردگی کا براہِ راست مشاہدہ کیا گیا ہے۔
یونان اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات:
اگرچہ اسرائیل اور یونان کے درمیان گزشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی اور تکنیکی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم پیر کے روز طے پانے والا یہ سمجھوتہ دونوں ممالک کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم دفاعی معاہدہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یونان اپنی مسلح افواج کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود سے متعلق تنازعات کے باعث اس کا اپنے ہمسائے اور نیٹو اتحادی ملک ترکی کے ساتھ طویل عرصے سے کشیدگی اور اختلاف چلا آ رہا ہے۔ اس سے قبل بھی یونان نے اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ 1.65 ارب ڈالر کے ایک بڑے معاہدے کے تحت فضائی تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ راکٹ لانچرز، اینٹی ٹینک میزائلوں اور ڈرونز کے حصول کے متعدد معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔
یونانی وزیرِ دفاع نیکوس ڈینڈیاس نے معاہدے پر باقاعدہ دستخطوں کے بعد اپنے ردِعمل میں کہا کہ جدید دور کے تنازعات نے دفاع اور عسکری مزاحمت کے روایتی تصورات کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، سیٹلائٹ مواصلات، بغیر پائلٹ کے ڈرون سسٹمز، سائبر خطرات اور ہائبرڈ جنگ جیسے عوامل نے پرانے روایتی دفاعی نظریات کو مکمل طور پر غیرحقیقی بنا دیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق اس جامع معاہدے میں ‘ڈیوڈز سلنگ’ اور ‘سپائیڈر’ سمیت متعدد عالمی معیار کے فضائی دفاعی نظام اور ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے ایک الگ معاہدے کے تحت رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے ‘ڈرون ڈوم’ سسٹمز بھی یونان کو فراہم کیے جائیں گے۔
اسرائیل دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ:
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل عالمی اسلحہ برآمدات کی فہرست میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی صنعت کی مجموعی عالمی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ گائیڈڈ میزائلوں، راکٹوں اور جدید فضائی دفاعی نظاموں پر مشتمل ہے۔