قومی اسمبلی میں احتجاج: فاشسٹ حکومت نے اسلام آباد کو بند کر کے مفلوج کر دیا، فاٹا اور مالاکنڈ پر عائد ٹیکس فوری واپس لیا جائے، اسد قیصر

منصور احمد june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فاشسٹ اور غیر قانونی حکومت نے سیکیورٹی کے نام پر دارالحکومت اسلام آباد کو ہر طرف سے بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے مقتدر الفاظ میں کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر آدھے سے زیادہ اسلام آباد کو مفلوج کر دیا گیا ہے، جو چند راستے کھلے ہیں وہاں ٹریفک کا شدید دباؤ ہے اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

اسد قیصر نے وفاقی حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے بجائے فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آئے ہیں۔ اسی لیے انہیں نہ عوام کی سہولت کی فکر ہے اور نہ ہی عوامی رائے کی کوئی پرواہ ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جب ووٹ کے بغیر اقتدار مل جائے تو پھر عوام کی مشکلات، تکالیف اور روزمرہ زندگی کی پریشانیاں ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، افسوس کہ عوام جتنی زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں، یہ حکومت اتنا ہی خود کو محفوظ اور مطمئن سمجھتی ہے۔

قومی اسمبلی میں ملکی معیشت اور صوبائی حقوق پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ان کی وفاقی وزیرِ خزانہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکس کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ایک لازمی جزو ہے، تاہم فاٹا اور مالاکنڈ دہشت گردی سے شدید متاثرہ علاقے ہیں، وہاں کے حالات کو سمجھنا ہوگا۔ اس وقت افغانستان کے ساتھ تجارت تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور امن و امان کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے گلہ کیا کہ حکومت نے ان علاقوں میں کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں کیے اور این ایف سی کے تحت فاٹا کے لیے 3 فیصد حصہ دینے کا جو مقتدر عہد کیا گیا تھا، وہ بھی آج تک پورا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم سب مالاکنڈ اور فاٹا کے غیور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایسے بدترین حالات میں ان مظلوم علاقوں سے ٹیکس کیسے لیا جا سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنما نے انکشاف کیا کہ این ایف سی کے تحت ہمارے صوبوں کے 434 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ صوبوں کو پانی کے حصے میں بھی 19 فیصد کی نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایوان سے فاٹا اور مالاکنڈ پر عائد تمام ٹیکسز کو فوری طور پر واپس لینے کا مقتدر مطالبہ کیا۔