

منصور احمد june 30,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے تمام کمرشل اور شیڈولڈ بینکوں کے لیے مقتدر اور اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے تحت اب کسی بھی بینک اکاؤنٹ کو بغیر قانونی جواز، مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ منظوری اور مناسب تصدیق کے بلاک، فریز یا اس پر کسی بھی قسم کی آپریشنل پابندی عائد نہیں کی جا سکے گی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ غیر ارادی، عجلت پسندی یا محض احتیاطی پابندیوں کے نتیجے میں اکاؤنٹ ہولڈرز کو پہنچنے والے کسی بھی قسم کے مالی یا قانونی نقصان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک یا فریزنگ کا اقدام صرف اور صرف مروجہ قانون کے مطابق ہو۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے ہدایت نامے کے مطابق، ہر قسم کی ڈیبٹ بلاکنگ یا اکاؤنٹ فریزنگ اب صرف متعلقہ قانون کے دائرہ کار اور مجاز ادارے کے حتمی اختیار کے تحت ہی عمل میں لائی جا سکے گی۔ کسی بھی شہری کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی بھی تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے بینک انتظامیہ پر قانونی اختیار اور متعلقہ دستاویزات کی مکمل اور جامع تصدیق کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو سخت پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایک ایسا جدید اور مؤثر اندرونی نظام تشکیل دیں جو اس بات کی مکمل ضمانت دے کہ کسی بھی کھاتہ دار پر محض شک یا احتیاطی بنیادوں پر ایسی پابندیاں عائد نہ ہوں جن سے اسے غیر ضروری مالی تنگی یا قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے۔
یہ اہم ترین ہدایات اسلام آباد ہائیکورٹ کے مقتدر فیصلے کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں، جہاں جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک کو بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کے حوالے سے ایک واضح، شفاف اور مربوط اندرونی طریقہ کار مرتب کرنے اور ملک بھر کے تمام بینکوں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی جامع رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں نئے وضع کردہ ایس او پیز اور بینکوں کے لیے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کی مکمل تفصیلات سے عدالتِ عالیہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔