

محمود احمد june 24,2026
کابل (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء
افغان طالبان رجیم کی اندرونی صفوں میں ایک بہت بڑی اور مقتدر دراڑ پیدا ہو گئی ہے، جہاں امیرِ طالبان نے اپنے ہی ایک بااثر مقامی کمانڈر کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے انتہائی قیمتی معدنیاتی وسائل پر قبضے کی اندرونی جنگ نے اب ایک سنگین عسکری و سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، اور افغان طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم کے مقتدر معاملے پر اختلافات پچھلے چند دنوں میں حد سے زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے بعد طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کو باقاعدہ طور پر باغی قرار دے کر ان کے خلاف فوری اور سخت ترین فوجی کارروائی کا مقتدر حکم دے دیا ہے۔
افغان میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا ایک بہت بڑا اور مقتدر قافلہ جمعہ خان فاتح کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے لیے بدخشاں کے دور افتادہ ضلع شغنان کی طرف تیز رفتاری سے روانہ ہو چکا ہے۔ کمانڈر جمعہ خان فاتح کی گرفتاری کے اس مقتدر مشن کے لیے ہمویز گاڑیوں اور بھاری ٹرکوں سمیت پچاس عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان رجیم کا ایک انتہائی مسلح اور بھاری دستہ متحرک کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سخت فوجی کارروائی کے ردِعمل میں کمانڈر جمعہ خان فاتح نے بھی اپنے تمام مقامی افراد اور حامیوں کو طالبان رجیم کے خلاف فوری طور پر ہتھیار اٹھانے اور علاقے کی قیمتی کانوں کا کنٹرول مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینے کا مقتدر حکم دے دیا ہے۔
حساس اداروں کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، جمعہ خان فاتح نے کابل کی طالبان رجیم کے خلاف باقاعدہ اور منظم عسکری کارروائیوں کی تزویراتی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، اور وہ یہ مقتدر دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت کے لیے ان کے پاس صوبہ بدخشاں میں دس ہزار اور ضلع نسی میں پچیس سو سے زائد تجربہ کار جنگجو بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق، افغانستان کے ان ناراض اور بااثر کمانڈروں کی جانب سے کی جانے والی یہ عسکری مزاحمت دراصل طالبان رجیم کے نظریاتی خاتمے اور اندرونی گرفت کمزور ہونے کی شروعات ہے، جو مستقبل قریب میں پورے ملک کو ایک بار پھر شدید اور خونریز خانہ جنگی کی ہولناک دلدل میں دھکیل دے گی۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف بڑھتی ہوئی یہ عسکری بغاوتیں مرکزی کمانڈ کے کھوکھلے ہونے اور گہرے داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہیں۔