

محمود احمد, JULY 02,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مقتدر کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ کی ایک منظم اور تزویراتی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے باپ اور ان کے دو بیٹوں کو مشکوک پائے جانے پر پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ تینوں مسافر نجی ایئرلائن کی پرواز پی اے-468 کے ذریعے لاہور سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ تاہم، امیگریشن کلیئرنس کے عمل کے دوران ان کی مشکوک صورتحال اور سفری دستاویزات پر شبہ ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر سیکنڈری ویری فیکیشن کاؤنٹر منتقل کیا گیا۔ تلاشی اور ابتدائی تزویراتی تفتیش کے دوران مسافروں کے قبضے سے البانیہ کے ویزے اور سربیا کے غیر قانونی روٹ سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے، جبکہ ان کے موبائل فونز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے دوران مشتبہ بین الاقوامی ٹریول ایجنٹس کے ساتھ رابطوں اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی ملا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ ایک انسانی سمگلر (ایجنٹ) نے انہیں سنہری مستقبل کے جھانسے میں رکھ کر غیر قانونی طریقے سے اٹلی پہنچانے کے لیے سربیا اور آذربائیجان کا ٹرانزٹ روٹ تیار کیا تھا۔ اس خطرناک مقصد کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا بھاری مالی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں سے چوتیس لاکھ روپے فی مسافر ایجنٹ کو پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں افراد کو حراست میں لے کر مزید تادیبی قانونی کارروائی اور تفتیش کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کا اعادہ ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔