

منصور احمد june 25,2026
اسلام آباد (ٹیکس و معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قطر میں مقیم ایک مبینہ اوورسیز پاکستانی ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے فنڈز کی منتقلی اور اکاؤنٹ خالی کیے جانے کے معاملے پر سوشل میڈیا اور پبلک ہلاکت خیز پروپیگنڈے کا مقتدر نوٹس لیتے ہوئے ایک انتہائی تفصیلی اور سنسنی خیز وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی زیادتی کا نہیں بلکہ ٹیکس چوری اور سرکاری دستاویزات کی جعل سازی کا ایک سنگین کیس ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے مقتدر اور تفصیلی ڈیجیٹل بیان میں ایف بی آر کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جناب ارسلان آدم عوامی سطح پر خود کو ایک غیر مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) کے طور پر پیش کر کے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سچ یہ ہے کہ سال 2017 اور 2018 کے اپنے آفیشل انکم ٹیکس گوشوارے فائل کرتے وقت انہوں نے خود اپنے دستخطوں سے اپنے آپ کو پاکستان میں مقیم شہری قرار دیا تھا۔ پاکستانی ٹیکس قانون کے تحت اس حیثیت کا حامل فرد اپنی ملکی و غیر ملکی تمام تر آمدنی پر مکمل ٹیکس دینے کا قانونی طور پر پابند ہوتا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق، ارسلان آدم نے ہر سال 23.52 ملین روپے کی خطیر غیر ملکی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ قانون کے مطابق اس کی حد صرف 5 ملین روپے ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122(9) کے تحت ایف بی آر کی جانب سے انہیں متعدد نوٹسز بھیجے گئے اور مقتدر سماعت کا مکمل و منصفانہ موقع فراہم کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے انکم دعووں کی تائید میں ایک بھی دستاویزی ثبوت یا بینکنگ ریکارڈ پیش کرنے میں مکمل ناکام رہے۔ ان کے اپنے اعلانات اور ثبوت فراہم نہ کرنے پر ایف بی آر نے قانون کے مطابق ان پر 30 ملین (3 کروڑ) روپے کا قانونی ٹیکس مطالبہ عائد کیا۔
بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جب ایف بی آر نے اس واجب الادا ٹیکس کی قانونی ریکوری کا عمل شروع کیا، تو جناب آدم نے اس مقتدر کارروائی کو روکنے کے لیے اپنے متعلقہ بینک کے سامنے ایف بی آر کے نام سے تیار کردہ بالکل جعلی اور من گھڑت احکامات پیش کیے، جو انہیں واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ احکامات بورڈ کی طرف سے کبھی جاری ہی نہیں کیے گئے، یہ ایف بی آر کے آفیشل آئی آر ایس سسٹم میں کہیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی آفیشل بارکوڈ درج ہے، جو کہ واضح جعل سازی ہے۔ اس جعل سازی کے ذریعے جب وہ ریکوری روکنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مقتدر قانون سے بچنے کے لیے 24 جون 2026 کو کمشنر اپیلز کے سامنے ایک تاخیری اپیل دائر کی، یہ وہی دن تھا جس دن انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنا شکایتی خط وائرل کیا۔ ایف بی آر نے اعادہ کیا ہے کہ ادارہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے اور قانون پسند شہریوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے، تاہم جعل سازوں اور ٹیکس چوروں کے خلاف کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔