

محمود احمد, September 13,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء
امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1996ء میں قائم کی گئی خصوصی ‘ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ’ کے تحت قانونی کارروائی کرتے ہوئے افغان نژاد 47 سالہ خاتون نظیرہ حاجی زادہ کو امریکہ سے باضابطہ ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، ٹیکساس کی قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نظیرہ حاجی زادہ نے عدالت میں مقدمے کی مزید طویل پیروی کرنے کے بجائے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد ان کی قانونی امیگریشن حیثیت کو فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا۔
یہ خصوصی اور انتہائی خفیہ عدالتی طریقہ کار امریکی کانگریس نے 1996ء میں نافذ کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ایسے غیر امریکی شہریوں کی ملک بدری کے کیسز چلانا ہے جن کے خلاف دہشت گردی یا قومی سلامتی سے متعلق انتہائی حساس اور خفیہ استخباراتی شواہد موجود ہوں۔ 30 سال قبل قائم ہونے والی اس عدالت کے تحت یہ امریکہ کی تاریخ کا پہلا باضابطہ مقدمہ ہے۔
اگرچہ نظیرہ حاجی زادہ پر براہِ راست کسی فوجداری جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا تھا، تاہم امریکی استغاثہ اور انٹیلی جنس اداروں کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اپنے گھرانے کے افراد کو شدّت پسند اور انتہا پسند نظریات کی جانب مائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکی حکام کے مطابق حاجی زادہ کے بیٹے عبداللہ حاجی زادہ اور داماد ناصر احمد توحید کو 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے روز داعش سے متاثر ہو کر بڑے پیمانے پر فائرنگ کی منصوبہ بندی کے جرم میں پہلے ہی سخت سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
امریکی محکمۂ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ نظیرہ حاجی زادہ نے آئینی طور پر خود کو “غیر ملکی دہشت گرد” تسلیم کرتے ہوئے ملک بدری کے حکم کے خلاف اپیل کے تمام حقوق ترک کر دیے ہیں۔ اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی اٹارنی جنرل ٹڈ بلانش نے اسے امریکی قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کی ایک بڑی اور تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
دوسری جانب نظیرہ حاجی زادہ کی قانونی ٹیم اور وکلائے صفائی نے اس کارروائی پر شدید قانونی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ دفاعی وکلاء کا مؤقف ہے کہ ان کی مؤکلہ کو مقدمے میں پیش کیے گئے خفیہ شواہد تک رسائی فراہم نہیں کی گئی، جو امریکی آئین کے تحت ملنے والے بنیادی حقِ دفاع کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وکلاء کے مطابق ان کی مؤکلہ کا ملک بدری قبول کرنا عدالت کے آئینی اختیار کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ خفیہ شواہد پر مبنی اس یکطرفہ نظام کے خلاف احتجاج ہے، جسے مستقبل میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔