

کاشف عباسی ,june 24,2026
اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء
پاکستان بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بلیک مارکیٹنگ اور اوور چارجنگ نے گھریلو صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، جہاں گیس مقتدر سرکاری نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر کھلے عام فروخت ہو رہی ہے۔ توانائی کے اس سنگین بحران اور مافیا کی لوٹ مار پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی وفاقی حکومت کی انرجی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جون کے رواں مہینے کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 309 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، لیکن اس کے برعکس ملک بھر کے بازاروں اور دکانوں میں گھریلو صارفین سے 600 روپے فی کلو سے بھی زائد وصول کیے جا رہے ہیں، یعنی غریب عوام سے فی کلو گیس پر تقریباً 300 روپے اضافی بٹورے جا رہے ہیں۔
صنعتی و تجارتی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر ایل پی جی کی مجموعی کھپت 60 لاکھ کلو سے زائد ہے، جس کا مقتدر مطلب یہ ہے کہ ہول سیلرز اور منافع خور مافیا روزانہ کی بنیاد پر عوام کی جیبوں پر 1.8 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی سپلائی کی مبینہ کمی کا مصنوعی خوف پھیلا کر ہول سیلرز نے ملی بھگت سے قیمتوں میں یہ اندھا دھند اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے اب تک پاکستانی صارفین کو مجموعی طور پر 60 سے 70 ارب روپے کا مقتدر اور بڑا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے، جبکہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس اوور چارجنگ کو روکنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔
ملک میں توانائی کے اس شدید بحران اور بے لگام مہنگائی پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت کو مقتدر انداز میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باوجود پاکستان میں گیس کے نرخ کم نہیں کیے گئے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت گیس اور تیل پر بھاری ٹیکس لگا کر پیسے کمانے کا تزویراتی طریقہ بند کرے اور انرجی کی قیمتوں میں فوری طور پر نمایاں کمی لائے، تاکہ ملک میں انڈسٹری اور زراعت کا پہیہ تیزی سے چل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ دونوں پیداواری شعبے چلیں گے تو حکومت کو خود بخود ٹیکس بھی حاصل ہوگا اور ملک کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مقتدر مواقع بھی میسر آئیں گے۔