وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کا جائزہ؛ جان و مال اور انفراسٹرکچر کا تحفظ اولین ترجیح

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر قائم کردہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دوسرا اہم ترین اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں مون سون 2026 کے دوران شہریوں کے جان و مال اور قومی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مقتدر و مربوط حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے مقتدر نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے مون سون 2026 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے اب تک کی گئی تزویراتی تیاریوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی اداروں کے نمائندوں کی جانب سے مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی و دیگر خطرات سے نمٹنے اور بالخصوص شمالی علاقہ جات میں محفوظ سیاحت کو یقینی بنانے کے حوالے سے کی گئی انتظامی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مقتدر حکام کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں حالیہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف)، لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کے بہاؤ کے شدید خدشات موجود ہیں، جس کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات اٹھانا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بہترین پیشگی منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور تمام اسٹیک ہولڈرز و انتظامی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سطح پر مؤثر رابطہ کاری اور بروقت ردعمل کے تزویراتی نظام کو مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی یا ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ این ڈی ایم اے کے حکام نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کے تعاون سے ملک بھر میں جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ مقتدر اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔