

محمود احمد, JULY 05,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے اہم دوروں کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈز کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کمیٹی کے دیگر اراکین اسد شفیق اور سابق مقتدر کپتان مصباح الحق کے ہمراہ اسکواڈز کا اعلان کیا۔ پی سی بی حکام کے مطابق، مقتدر بیٹر بابر اعظم دونوں اہم ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے سولہ رکنی جبکہ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے سترہ رکنی اسکواڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل کو فٹنس سے مشروط طور پر انگلینڈ کے دورے کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، تاہم وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا حصہ نہیں ہوں گے۔
سلیکشن کمیٹی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے چار نئے کھلاڑیوں کو پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کر کے موقع دیا ہے، جن میں بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان، دائیں ہاتھ کے بیٹر محمد اویس ظفر، دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر عبید شاہ اور وکٹ کیپر بیٹر محمد غازی غوری شامل ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف سولہ رکنی اسکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، عامر جمال، عبداللہ فضل، علی عثمان، اذان اویس، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد علی، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد اویس ظفر، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، ساجد خان، سلمان علی آغا، شان مسعود اور عبید شاہ شامل ہیں، جبکہ انگلینڈ کے خلاف سترہ رکنی اسکواڈ میں ان تمام کھلاڑیوں کے ساتھ سعود شکیل فٹنس کلیئرنس سے مشروط طور پر ٹیم کا حصہ بنیں گے۔
شیڈول کے مطابق، پاکستان ٹیم اپنے بین الاقوامی دورے کا آغاز ویسٹ انڈیز سے کرے گی، جہاں پہلا ٹیسٹ پچیس سے انتیس جولائی تک برائن لارا کرکٹ اکیڈمی، ٹرابا میں جبکہ دوسرا ٹیسٹ دو سے چھ اگست تک کوئنز پارک اوول، پورٹ آف اسپین میں کھیلا جائے گا۔ اس کے بعد قومی ٹیم انگلینڈ کا رخ کرے گی، جہاں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ انیس سے تئیس اگست تک لیڈز، دوسرا ستائیس سے اکتیس اگست تک لارڈز اور تیسرا نو سے تیرہ ستمبر تک برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران عاقب جاوید نے واضح کیا کہ وہ اور اسد شفیق گزشتہ اٹھارہ ماہ سے سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہیں، جبکہ مصباح الحق اور سرفراز احمد کو کمیٹی میں شامل ہوئے چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے تینوں فارمیٹس کے تقاضے بالکل مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو الگ انداز سے جانچ کر میرٹ پر ٹیموں کا انتخاب کیا گیا ہے۔