روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف کا اہم بیان؛ آبنائے ہرمز ایران کے لیے جوہری ہتھیار جیسا اسٹریٹجک اثاثہ ہے

محمود احمد, JULY 05,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے بین الاقوامی جہاز رانی اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے پاس باب المندب کی صورت میں ایک اہم ’بیک اپ ہتھیار‘ موجود ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، روس کے سابق صدر اور وزیرِ اعظم دیمتری میدویدیف، جو ان دنوں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران کے دورے پر ہیں، نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک ایسا اسٹریٹجک اثاثہ ہے جس کا موازنہ جوہری ہتھیار سے کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے جغرافیائی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ باب المندب کی آبنائے یمن، جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے جو خلیجِ عدن کو بحیرہ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔ دیمتری میدویدیف نے دنیا کو متنبہ کیا کہ اگر خطے میں کوئی وسیع تر علاقائی تنازعہ جنم لیتا ہے تو اس صورت میں باب المندب کے ذریعے ہونے والی عالمی جہاز رانی میں شدید خلل پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صورتحال اس نہج تک نہیں پہنچے گی، تاہم خطے میں جنگ اور تنازعات کے خواہشمند تمام ممالک کو ایران کی اس تزویراتی صلاحیت کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ واضح رہے کہ یمن میں ایران کے ہمدرد حوثی جنگجوؤں نے پہلے بھی باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی اور گزشتہ ماہ آٹھ جون کو بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔