

منصور احمد june 22,2026
لندن (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء
برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی ہی جماعت لیبر پارٹی کے اندر سے شدید اور مسلسل بڑھتے ہوئے تزویراتی دباؤ کے بعد بالآخر ٹیلی ویژن پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے اپنے مقتدر عہدے سے استعفیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، کیئر اسٹارمر کا یہ اچانک اور بڑا فیصلہ ان کے سیاسی حریف اینڈی برنم کی جانب سے نارتھ ویسٹ انگلینڈ میں ضمنی الیکشن کے دوران پارلیمنٹ کی نشست پر حاصل کی جانے والی فیصلہ کن فتح کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ 63 سالہ سابق وکیل اور لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر حالیہ چند ماہ میں متعدد داخلی پالیسیوں، معاشی فیصلوں اور مختلف سیاسی اسکینڈلز کے باعث برطانوی ووٹرز اور عوامی سرویز میں اپنی مروجہ مقبولیت بری طرح کھو چکے تھے۔
ٹیلی ویژن پر جذباتی اور براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے مقتدر عوام کو بتایا کہ انہوں نے بکنگھم پیلس میں کنگ چارلس کو اپنے اس فیصلے سے باقاعدہ مطلع کر دیا ہے، جبکہ انہوں نے لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک اور پارٹی کے مقتدر وقار کی خاطر نئے قائد کے انتخاب کا عمل فوری شروع کریں، جس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 9 جولائی سے جمع کروائے جا سکیں گے۔ واضح رہے کہ سال 2024ء کے عام انتخابات میں کیئر اسٹارمر نے کنزرویٹو پارٹی کے 14 سالہ طویل اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے، 1997ء کے بعد لیبر پارٹی کو برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت دلوائی تھی، مگر وہ تبدیل ہوتے جیو پولیٹیکل حالات اور عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ ان کے اس استعفے اور ٹائم ٹیبل کے اعلان کے ساتھ ہی برطانیہ میں نئے وزیرِ اعظم کی دوڑ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔