سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: حقِ شفعہ کا دعویٰ مسترد، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال، ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حقِ شفعہ سے متعلق ایک انتہائی اہم اور مقتدر مقدمے میں بڑا اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دعویٰ شفعہ میں طلبِ مواثبت کی تاریخ، وقت اور مقام کا واضح طور پر ذکر کرنا قانونی طور پر لازمی ہے، بصورتِ دیگر ایسا کوئی بھی دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقتدر قانونی نکتے پر پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے ہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا ابتدائی فیصلہ مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔

تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی مقتدر بنچ نے شیرزالی و دیگر بنام سعد اللہ خان مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، جسے جسٹس شاہد بلال حسن نے خود تحریر کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سعد اللہ خان نامی شہری نے کوہاٹ میں واقع چھ کنال اور آٹھ مرلہ اراضی کے انتقال کے خلاف حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ زمین کی فروخت کی اطلاع ملنے پر انہوں نے فوری طور پر طلبِ مواثبت اور بعد ازاں طلبِ اشہاد کی تمام قانونی کارروائی مکمل کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کا دعویٰ اس مقتدر بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ اصل درخواست میں طلبِ مواثبت کی مخصوص تاریخ اور مقام کا ذکر سرے سے غائب تھا۔ بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دعویٰ منظور کر لیا تھا، جس کے خلاف متاثرہ فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں واضح الفاظ میں قرار دیا کہ حقِ شفعہ ایک انتہائی کمزور اور نازک حق ہے، جس کے استعمال کے لیے قانون میں مقرر کردہ تمام تقاضوں کی سختی سے پابندی کرنا بے حد ضروری ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ طلبِ مواثبت دراصل دعویٰ شفعہ کی بنیادی جڑ ہے اور اس کے مقررہ وقت، تاریخ اور مقام کا واضح ذکر اور پختہ ثبوت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر یہ بنیادی قانونی تقاضا ہی پورا نہ ہو تو بعد میں کی جانے والی تمام کارروائیاں اپنی قانونی حیثیت مکمل طور پر کھو دیتی ہیں۔

عدالت نے متعدد سابقہ عدالتی نظائر اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید قرار دیا کہ بنیادی درخواست میں طلبِ مواثبت کی لازمی تفصیلات شامل نہ ہونا پورے دعوے کے لیے ایک مہلک نقص ہے، اور بعد میں پیش کیا جانے والا کوئی بھی ثبوت یا گواہی اس ابتدائی کمی کو کسی صورت پورا نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ فروخت کی اطلاع ملنے کے ذرائع کی مکمل کڑی بھی ثابت نہیں کی جا سکی، جس سے طلبِ مواثبت کی قانونی حیثیت مزید مشکوک ہو جاتی ہے۔ عدالت نے نتیجتاً اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے، اور ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقِ شفعہ کے دعوؤں میں قانونی تقاضوں کی معمولی خلاف ورزی بھی دعویٰ کے مستقل خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔