خلیجی معیشت میں بڑا اقدام: کویت کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 15 سالہ اقامہ متعارف، پاکستانی تاجر بھی مستفید ہو سکیں گے

محمود احمد june 22,2026

کویت سٹی ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

خلیجی ریاست کویت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری شخصیات کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک تزویراتی اور تاریخی پیشرفت کرتے ہوئے 15 سالہ طویل مدتی اقامہ (ریذیڈنسی ویزا) باقاعدہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئے مقتدر قانون کے تحت مروجہ شرائط پر پورا اترنے والے اہل غیر ملکی سرمایہ کار، ان کے کاروباری شراکت دار اور قریبی اہلِ خانہ اب کفیل (اسپانسر) کے روایتی نظام کے بغیر طویل مدت تک کویت میں رہائش اختیار کرنے اور اپنی تجارتی سرگرمیاں بلاروک ٹوک جاری رکھنے کے اہل ہوں گے۔

کویتی حکام کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانا اور کویت کو خلیجی خطے کے نمایاں مالیاتی و تجارتی مراکز کی صف میں شامل کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے مقتدر ضوابط کے تحت وہ تمام غیر ملکی افراد درخواست دینے کے مجاز ہوں گے جو کویت میں حکومت سے منظور شدہ تزویراتی سرمایہ کاری منصوبوں اور فعال کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہوں۔ کویتی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس خصوصی اقامے کی سہولت حاصل کرنے والوں میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ تسلیم شدہ بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور رجسٹرڈ کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار اور کاروباری برادری بھی خلیج کی اس نئی پالیسی سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

نئے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ ان کے کاروباری منصوبے ‘کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی’ سے باقاعدہ تصدیق شدہ اور منظور شدہ ہوں، جبکہ مقامی کویتی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سرمایہ کاری کی مخصوص حد (تھریش ہولڈ) کو پورا کرنا بھی لازمی ہوگا۔ کویتی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والی یہ نئی ویزا اصلاحات ملک کے طویل المدتی اقتصادی وژن کا ایک اہم حصہ ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کویت بھی اب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کی اس صف میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی ٹیلنٹ اور سرمائے کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہے ہیں، جس سے پاکستانی تاجروں کے لیے بھی مڈل ایسٹ میں کاروباری توسیع کے نئے اور مقتدر مواقع پیدا ہوں گے۔