

منصور احمد, JULY 01,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء
پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی کے تاریخی معاہدے کے تحت روایتی سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اکیس مئی دو ہزار آٹھ کو طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پابند ہیں کہ وہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کریں۔ اسی تزویراتی فریم ورک کے تحت، حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کو اپنی تحویل میں موجود دو سو پچاس بھارتی قیدیوں کی سرکاری فہرست فراہم کی، جن میں باون سویلین قیدی اور ایک سو اٹھانوے ماہی گیر شامل ہیں۔ دوسری جانب، حکومتِ بھارت نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو اپنی جیلوں میں موجود چار سو انتالیس پاکستانی یا بظاہر پاکستانی قیدیوں کی تازہ فہرست مقتدر ذرائع سے فراہم کی ہے، جن میں تین سو چھیاسی سویلین قیدی اور ترپن ماہی گیر شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کے مقتدر ترجمان کے مطابق، پاکستان نے بھارتی حکومت پر کڑا زور دیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں اپنی مقررہ سزا مکمل کرنے والے ستانوے پاکستانی قیدیوں، جن میں چونسٹھ سویلین قیدی اور تینتیس ماہی گیر شامل ہیں، کو فوری طور پر رہا کر کے باوقار طریقے سے وطن واپس بھیجے کیونکہ ان تمام قیدیوں کی پاکستانی شہریت کی حتمی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر بھارت سے یہ اہم تزویراتی مطالبہ بھی کیا کہ رہائی اور اپنے وطن واپسی کے منتظر تمام معصوم پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی جیلوں کے اندر مکمل حفاظت، سلامتی اور سماجی فلاح و بہبود کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
آفیشل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے ان تمام بظاہر پاکستانی قیدیوں کو بھی جلد سے جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے جن کے مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں، تاکہ ان کی اصل شہریت کی بروقت اور قانونی تصدیق کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، حکومتِ پاکستان بھارتی جیلوں میں اس وقت محبوس تمام معصوم پاکستانی قیدیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور ان کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ تزویراتی و سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی تاکہ وہ جلد اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔