

منصور احمد, August 25,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء
بھارت میں نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث جہاں معیشت زوال پذیر ہے، وہی ملک کا پورا نظامِ صحت بھی سنگین بحران کا شکار ہو چکا ہے اور عوام علاج معالجے کے لیے در بدر ہونے پر مجبور ہیں۔
بھارتی جریدے ‘دی وائر’ میں شائع ہونے والی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی کم از کم 29 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے کسی بھی ضلعی ہسپتال میں ماہرِ امراضِ گردہ (نیفرولوجسٹ) موجود ہی نہیں ہے۔ متعدد ریاستوں میں ڈائیلاسز ٹیکنیشنز اور یورولوجسٹ کی شدید قلت ہے جبکہ کئی جگہوں پر گردوں کے علاج کے لیے طبی عملے کی آسامیاں تک منظور نہیں کی گئیں۔ ‘انڈین ایکسپریس’ میں شائع ‘لانسیٹ کمیشن’ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی نظامِ صحت غیر مساوی معیار، وسائل کے غلط استعمال اور مالی تحفظ کی عدم دستیابی کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی 13 سے 16 فیصد نوجوان آبادی گردوں کے امراض میں مبتلا ہے، مگر مودی سرکار نے عوام کی صحت و تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے تمام تر توانائی ہندوتوا اور اقتدار کو مضبوط کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔