

منصور احمد, JULY 01,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اکہتر سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں ان کا جائز حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (تحفہ) ثابت کرنے کا تمام تر قانونی بوجھ ہمیشہ اس فریق پر ہوگا جو اس سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہو۔ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے چودہ صفحات پر مشتمل مقتدر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے سول کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے جن میں زبانی ہبے کو درست تسلیم کر کے بہنوں اور والدہ کو وراثت سے محروم رکھا گیا تھا، جبکہ ریونیو حکام کو جائیداد کا تمام ریکارڈ قانون کے مطابق فوری درست کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی کوئی مہربانی، صوابدید یا تحفہ نہیں بلکہ یہ خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خودبخود تمام جائز وارثوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ نجی معاہدوں، خاندانی دباؤ یا فرسودہ رسم و رواج کے ذریعے خواتین کو اس بنیادی حق سے کسی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تزویراتی فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے دور رکھنے کے لیے جعلی ہبہ، جائیداد کا جعلی انتقال یا کسی بھی قسم کی جعلسازی اور فراڈ عدالتوں میں ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ماتحت عدالتوں کو ایسی ہر مشکوک ٹرانزیکشن کا انتہائی باریک بینی اور احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں اور انہیں صرف کاغذی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا پورا حصہ ملنا چاہیے۔
مقتدر فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ انیس سو پچپن میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے مبینہ زبانی ہبے کا موقف اختیار کرتے ہوئے پوری وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی تھی، جبکہ اپنی سگی والدہ اور بہنوں کو وراثت سے مکمل طور پر محروم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ماتحت عدالتوں نے اس زبانی ہبے کو درست تسلیم کیا، تاہم وہ بارِ ثبوت کے بنیادی قانونی اصول کو نظر انداز کر گئیں؛ کیونکہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے والے فریق پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس قانونی اصول کے بالکل برعکس خود ہبے کو ہی ثبوت تصور کر لیا، جو قانون کے منافی تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس میں تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کا اعتراض بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض اس ٹیکنیکل بنیاد پر خواتین کو ان کے ابدی قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔