عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج؛ ملزم چودہ سال قید کاٹ کر اور صدارتی معافی کے بعد رہا ہو چکا، سزا میں اضافے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، ریمارکس

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ ملک کا آئین صدرِ مملکت کو کسی بھی ملزم کی سزا میں کمی یا مکمل معافی دینے کا مقتدر اختیار دیتا ہے، اور جب یہ آئینی اختیار ایک بار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں دوبارہ اضافے کے لیے انتہائی ٹھوس اور مضبوط قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق دائر اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ملزم اپنی قانونی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہو چکا ہے۔

سماعت کے دوران ژوب، بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ جیل رپورٹ میں واضح لکھا گیا ہے کہ ملزم نے چودہ (14) سال قید کاٹنے کے بعد باقی ماندہ سزا پر صدرِ مملکت کی جانب سے عام معافی حاصل کی، لہٰذا یہ بتایا جائے کہ عمر قید کے قیدی کے لیے چودہ سال کی مدت کس قانون کے تحت مقرر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے کہ عدالت کے علم اور سابقہ فیصلوں کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے جیل میں کم از کم سترہ (17) سال قید کاٹنے کا اصول موجود ہے، تاہم چونکہ متعلقہ ملزم رہا ہو چکا ہے، اس لیے اس اہم قانونی سوال کا گہرا جائزہ کسی دوسرے مناسب اور متعلقہ مقدمے میں لیا جائے گا۔

دورانِ سماعت مقتدر عدالت نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قتل ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے ایک بار فیصلہ دیا اور اس فیصلے پر باقاعدہ عملدرآمد بھی ہو چکا، اب اتنے عرصے بعد سزا بڑھانے کے لیے کوئی مضبوط ترین قانونی وجہ پیش کی جائے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ صدرِ مملکت کو آئین کے تحت سزا میں کمی یا معافی دینے کا وسیع اختیار حاصل ہے اور اس مخصوص مقدمے میں یہ اختیار قانونی طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سزا مکمل ہونے کے بعد بھی اس میں اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم تحرین الیاس کی سزا بڑھانے کی اپیل کو خارج کر دیا۔