بیجنگ: چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کا دوسرا اجلاس رواں سال خزاں میں ہوگا؛ امریکی زرعی مصنوعات پر محصولات میں کمی کے فریم ورک پر اتفاق

محمود احمد, JULY 02,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

چینی وزارتِ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ چین اور یورپی یونین اپنے نو تشکیل شدہ “تجارت و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم” کا دوسرا وزارتی اجلاس رواں سال خزاں میں بیجنگ میں منعقد کریں گے۔ سی جی ٹی این کے مطابق، چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان حہ یادونگ نے جمعرات کو بیجنگ میں ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ میکانزم دونوں اہم ترین معاشی شراکت داروں کے درمیان مستقل رابطہ برقرار رکھنے اور تجارتی برآمدات و درآمدات کو متوازن بنانے کے لیے ایک کلیدی مستقل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس نئے فریم ورک کے تحت دونوں فریقین نے سال میں ایک سے دو بار وزارتی سطح پر ملاقاتیں کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ چینی ترجمان نے مزید بتایا کہ بیجنگ نے یورپی یونین کے تجارتی سربراہ (ماروش شیفکووچ) کو اس دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے باضابطہ طور پر چین کے دورے کی دعوت دی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ترجمان حہ یادونگ نے واضح کیا کہ حال ہی میں برسلز میں منعقد ہونے والے افتتاحی اجلاس میں دونوں اقتصادی قوتوں نے باہمی تجارتی حجم کو کم کرنے کے بجائے، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھا کر تجارتی توازن قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس ضمن میں مصنوعی ذہانت ، گرین ٹرانزیشن (سبز توانائی کی منتقلی)، اور خدمات کی تجارت جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی، جبکہ دونوں جانب سے مارکیٹ تک رسائی کے تحفظات کو بھی مرحلہ وار مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس نئے معاشی پوزیشننگ سے نہ صرف چینی اور یورپی کمپنیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک مثبت اور مستحکم محرک ملے گا۔

دوسری جانب، امریکا کی زرعی مصنوعات پر ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چینی ترجمان نے اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ پاکٹ معاشی و تجارتی مذاکرات کے بعد چین اور امریکہ نے زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مخصوص رہنما اہداف مقرر کیے ہیں۔ اس بات پر بھی اصولی اتفاق ہوا ہے کہ متعلقہ زرعی مصنوعات کو مساوی بنیادوں پر محصولات میں کمی کے طے شدہ فریم ورک کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے کسان اور کاروباری برادری اس تجارتی سہولت کاری سے یکساں فائدہ اٹھا سکیں۔