داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے ایک اور اہم تعمیراتی ہدف حاصل کر لیا، مین ڈیم پر فل سکیل آر سی سی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز

منصور احمد, JULY 01,2026

داسو/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے تعمیراتی میدان میں ایک اور مقتدر اور اہم ترین سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت پراجیکٹ پر فل سکیل رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ فل سکیل ٹرائل پراجیکٹ کے مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ کام شروع کرنے سے پہلے ایک لازمی اور تزویراتی مرحلہ ہے۔ اس وقت انجینئرز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل مقتدر ٹیمیں مین ڈیم سائٹ کے بالکل قریب واقع مخصوص ٹرائل سیکشن میں آر سی سی بچھانے کے اس فل سکیل ٹرائل میں مصروف ہیں۔ اس اہم ترین مشق کا بنیادی مقصد تعمیراتی طریقہ کار کی گہرائی سے جانچ اور توثیق کرنا، ڈیم کی تعمیر کے یکساں اور اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا، لاجسٹک اور آپریشنل سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینا، ممکنہ تکنیکی چیلنجز کی پیشگی نشاندہی کرنا اور پراجیکٹ پر موجود افرادی قوت کو جدید عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔

مقتدر انجینئرز کے مطابق، ٹیسٹنگ سمیت یہ فل سکیل ٹرائلز مسلسل چار ماہ تک جاری رہیں گے، جس کے دوران کنٹریکٹر، کنسلٹنٹس اور واپڈا کی ماہر ٹیمیں ٹرائل کے تمام باریک تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کریں گی۔ اس ٹرائل کی کامیاب تکمیل کے بعد مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ آغاز رواں سال کے آخر میں شیڈول ہے، تاہم مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا حتمی آغاز گنی ایریا سے درکار اہم تعمیراتی میٹریل پوزولان کی بروقت دستیابی پر منحصر ہے، کیونکہ گزشتہ دس سال پر محیط طویل کوششوں کے باوجود گنی ایریا کی قانونی تحویل اب تک واپڈا کو حاصل نہیں ہو پائی ہے۔ اس فل سکیل آر سی سی ٹرائل کے ساتھ ساتھ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے تئیس مختلف ورک فرنٹس پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، جن مقتدر ورک فرنٹس میں مین ڈیم کی بنیاد، زیرِ زمین پاور ہاؤس اور زیرِ زمین ٹرانسفارمر ہال کی تعمیر قابلِ ذکر ہے، جبکہ آر سی سی کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے درکار کرشنگ اور بیچنگ پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

یہ امر انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ بجلی کی سالانہ پیداوار کے لحاظ سے داسو پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نیشنل گرڈ کو ہر سال اکیس ارب یونٹ بجلی فراہم کرنے کی مقتدر صلاحیت رکھتا ہے۔ پراجیکٹ کی کل پیداواری صلاحیت چار ہزار تین سو بیس میگاواٹ ہے اور اسے دو تزویراتی مراحل میں تقسیم کر کے مکمل کیا جا رہا ہے، جہاں ہر مرحلے کی انفرادی پیداواری صلاحیت دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ ہے۔ واپڈا اس وقت پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر انتہائی سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس کی کامیاب تکمیل کے بعد قومی گرڈ کو سالانہ بارہ ارب یونٹ صاف، ماحول دوست اور انتہائی کم لاگت پن بجلی فراہم کی جائے گی، جو ملک میں جاری توانائِی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔