

منصور احمد june 30,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء
چیئریٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان سے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان کے اندر مستحق خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کے موجودہ اقدامات کو مزید سہل، شفاف اور تزویراتی طور پر مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کے روز جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے دوران بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے جدید ہنر مندی اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تربیت کے مواقع فراہم کرنے پر بات چیت کی گئی، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے خصوصی خواتین بینیفشری کونسلز کے قیام، کاروباری مواقع کی فراہمی کے ذریعے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے پسماندہ طبقات بشمول خواجہ سراؤں اور غیر شادی شدہ مستحق خواتین کے لیے معاون اقدامات اٹھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے حالیہ ورلڈ بینک کی تزویراتی تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وفد کو بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی معاونت نہ صرف غریب خاندانوں کو سہارا دے رہی ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کو مقتدر سطح پر مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس عالمی تحقیق کے مطابق، بی آئی ایس پی کے ذریعے مستحقین کو منتقل کیے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے مقامی مارکیٹ اور معیشت میں تقریباً دو اعشاریہ چوتیس روپے کی حقیقی آمدن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک، تجربات کے تبادلے اور ایک دوسرے کے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستحق خواتین تک مؤثر رسائی اور زیادہ مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی آگاہی مہمات کو مزید مقتدر اور مضبوط بنانے کی شدید ضرورت ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کے جدید نظام کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، جو کہ ملک میں مالی شمولیت کے حوالے سے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے تزویراتی اقدامات میں سے ایک ہے اور جس کا بنیادی مقصد خواتین کو محفوظ، مکمل شفاف اور انتہائی باوقار انداز میں مالی سہولیات اور وظائف تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔ یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان نے خواتین کی معاشی بااختیاری کے لیے بی آئی ایس پی کے ان مقتدر اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا اور اس پروگرام کو ایک کامیاب اور مؤثر ماڈل قرار دیا جو پاکستان میں پسماندہ خواتین کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانے میں سماجی تحفظ کے حقیقی کردار کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے مشترکہ وسائل کے فروغ، تکنیکی سطح پر باقاعدہ مشاورت کے تسلسل اور آئندہ کے تزویراتی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر کامل اتفاق کیا۔