

محمود احمد, JULY 03,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء
پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔
اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔

