

منصور احمد june 29,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے معاملے کو صرف پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ تنازع کے طور پر نہیں بلکہ عالمی انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور زیریں کنارے واقع ممالک کے پانی تک رسائی کے برحق اصول کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے مقتدر آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پیر کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یہ اہم معاملہ اقوامِ متحدہ، اس کے ذیلی اداروں اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھایا ہے جہاں ملکی موقف کی تائید کی گئی ہے، جبکہ آئندہ عالمی کانفرنس میں بھی انڈس واٹر ٹریٹی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت زیریں علاقوں کے آبی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا جائے گا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے کے ایک متاثرہ کسان اقبال سولنگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پورا گاؤں سال دو ہزار دس، دو ہزار بارہ اور دو ہزار بائیس کے تباہ کن سیلابوں سے شدید متاثر ہوا جبکہ دیگر اوقات میں زمین اس قدر خشک ہو جاتی ہے کہ وہاں کاشتکاری ناممکن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بالائی کنارے سے پانی کے بہاؤ کا غیر منصفانہ کنٹرول بھی ہے۔ وفاق وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی چالیس سے پچاس فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے، قومی معیشت کا بیس سے پچیس فیصد حصہ اسی شعبے سے وابستہ ہے اور ملک کی غذائی سلامتی کا انحصار بھی پانی کی باقاعدہ دستیابی پر ہے۔ لہٰذا، یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پانی کب اور کتنا ملے۔ انہوں نے برسلز سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گئے اپنے سوالات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر بالائی کنارے پر واقع ممالک کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ زیریں کنارے والے ممالک کا پانی روک سکیں تو دنیا بھر کے سرحد پار دریا خطرے میں پڑ جائیں گے، کیونکہ یورپ یا دنیا کے دیگر خطوں میں مشترکہ دریاؤں پر قائم ممالک نے کبھی زیریں ممالک کا پانی اس طرح نہیں روکا۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی شدید خدشات تھے کہ بھارت رن آف دی ریور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے فصلوں کے اہم ترین موسم میں محدود مدت کے لیے پانی روک کر پاکستان کی زرعی پیداوار کو مقتدر نقصان پہنچا سکتا ہے، اور حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مختصر مدت کے لیے بھی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ زرعی سرگرمیوں کو شدید متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیم صرف پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ پانی کی بروقت تقسیم اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں کیونکہ سیلاب کے دوران منگلا اور تربیلا جیسے کئی ڈیموں کے برابر پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے جبکہ بوائی کے موسم میں کسان پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پانی ذخیرہ کرنے اور آبی وسائل کے انتظام کے منصوبوں پر سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مقتدر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ دیامر بھاشا اور داسو ڈیم منصوبوں سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ اگر بین الاقوامی قرضے یا امداد نہ بھی ملی تو بھی حکومت اپنے وسائل سے ان کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ آبی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور پانی سے متعلق امور پر تمام سیاسی جماعتوں سے تزویراتی مشاورت کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔