

منصور احمد, JULY 02,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد سخت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ یہ اہم تزویراتی فیصلے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اسمبلی کے مقتدر قواعد و ضوابط کے تحت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی حفاظت، سابقہ سفارشات پر عمل درآمد، پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور محکمے کی بحالی کے اسٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری پاکستان ریلوے نے قائمہ کمیٹی کو حالیہ ریلوے حادثات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سکھر ڈویژن کے لاکھہ روڈ اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے ٹکراؤ اور لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی اصل وجوہات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو مقتدر حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں سنگین غفلت کے مرتکب ذمہ دار افسران اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی کہ وہ ریلوے نیٹ ورک کے مختلف سیکشنز، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں ریلوے کی زمینوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں ہر صورت پیش کرے۔
اس کے علاوہ وزارت ریلوے کو پابند کیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں ریلوے کی جامع تنظیم نو، بحالی کے پلان اور کلیدی قومی منصوبوں ’ایم ایل ون‘ اور ’پیپری‘ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دے۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، وسیم قادر، محمد نعمان، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، سید وسیم حسین، احمد سلیم صدیقی اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکریٹری، سیکریٹری پاکستان ریلوے بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ مقتدر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔