

محمود احمد, September 13,2026
صنعاء (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء
یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی گروپ کے درمیان جاری لڑائی میں شدت کے دوران نیشنز شیلڈ فورسز نے پانچ حوثی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حکومتی فورسز کی جانب سے حوثی ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کے خلاف فضائی کارروائیوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق نیشنز شیلڈ فورسز کی چھٹی بریگیڈ نے بتایا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مغربی تعز کے علاقے الغبرہ میں جاری جھڑپوں کے دوران حوثی گروپ کے پانچ ڈرونز کو مار گرایا۔ یہ علاقہ الوازیعیہ محاذ کے قریب واقع ہے، جہاں حالیہ دنوں میں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔
یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق اسی دوران فوجی طیاروں نے جنوب مغربی تعز کے الذباب محاذ پر واقع التبۃ السوداء اور جبل المنعم کے علاقوں میں حوثی پوزیشنوں اور بیرکوں کو بھی نشانہ بنایا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں عسکری سازوسامان اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض حوثی جنگجوؤں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔
نیشنز شیلڈ فورسز کی جانب سے ڈرونز مار گرائے جانے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے مختلف محاذوں پر کئی ہفتوں سے دوبارہ شدید لڑائی جاری ہے۔ حالیہ کشیدگی میں خاص طور پر مغربی ساحلی علاقوں اور تعز کے محاذوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
یمن کی موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مغربی ساحل کا علاقہ باب المندب کے قریب واقع ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، اس لیے اس علاقے میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی فوجی کشیدگی صرف یمن تک محدود نہیں رہتی بلکہ علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
یمن میں حالیہ لڑائی کے دوران دونوں جانب سے عسکری کارروائیوں اور علاقائی پیش قدمیوں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ نیشنز شیلڈ فورسز کی جانب سے پانچ ڈرونز مار گرائے جانے کے دعوے کے حوالے سے حوثی گروپ کا فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر دستیاب اطلاعات اور Anadolu Agency کی رپورٹ کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں مختلف فریقوں کے دعووں کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔ عسکری کارروائیوں اور نقصانات سے متعلق مزید مصدقہ معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
ماخذ: Anadolu Agency، یمنی حکومتی عسکری ذرائع