مصنوعی ذہانت کو محفوظ، منصفانہ اور اخلاقی اصولوں کے ہم آہنگ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے؛ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا افتتاحی اجلاس سے خطاب

محمود احمد, JULY 06,2026

جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت اور تزویراتی شہر جنیوا میں پہلے دو روزہ عالمی سطح کے ’گلوبل اے آئی گورننس ڈائیلاگ‘ (مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے مکالمے) کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ چینی میڈیا گروپ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس تاریخی اور مقتدر افتتاحی اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ گلوبل اے آئی گورننس کے موضوع پر یہ دنیا کا پہلا ایسا مقتدر مکالمہ ہے جس میں بلا تفریق دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک کو یکساں شرکت اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا سنہری موقع ملا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اب یہ انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے کہ عالمی سطح پر ممالک کی اس شرکت کو فوری طور پر عملی اور ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جائے، تاکہ ابھرتی ہوئی جدید ترین ٹیکنالوجی ’مصنوعی ذہانت‘ (اے آئی) کو عالمی سطح پر زیادہ محفوظ، زیادہ منصفانہ، زیادہ قابلِ رسائی اور مروجہ اخلاقی اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ اس منفرد اور تزویراتی دو روزہ بین الاقوامی اجلاس میں دنیا بھر سے تقریباً 1500 سے زائد مقتدر نمائندے، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پالیسی ساز اے آئی گورننس سے متعلق درپیش مختلف چیلنجز اور اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جنیوا میں جاری اس اہم ترین عالمی مکالمے کا باقاعدہ انعقاد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کی جانب سے سال 2025ء میں کثرتِ رائے سے منظور کی گئی ایک تاریخی قرارداد کے مقتدر تحت کیا گیا ہے۔ اس اہم ترین قرار داد کا بنیادی اور بنیادی تزویراتی مقصد اقوامِ متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اے آئی گورننس کے لیے ایک جامع، مربوط اور متفقہ عالمی لائحہ عمل کی تشکیل پر بامقصد بات چیت کا موقع فراہم کیا جا سکے۔