تمام اقساط اسی مالیاتی سال کے اندر ادا کرنا لازمی ہوگا؛ ڈیجیٹل نان کمپلائنس پر سزاؤں اور قانونی کارروائیوں میں بھی کمی کا مقتدر فیصلہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی اہم سفارشات پر فنانس بل میں چند انتہائی مقتدر ترامیم شامل کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے فنانس بل کی باقاعدہ منظوری حاصل کر لی ہے۔ ان ترامیم کا بنیادی مقصد عوام اور موبائل صارفین پر سے یکمشت ٹیکسوں کا بھاری بوجھ کم کرنا اور متعلقہ کاروباری شعبوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیم اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام نے طویل تزویراتی مشاورت کے بعد ان عوامی ترامیم کو حتمی شکل دی، جس کے بعد ایوان نے اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کرتے ہوئے مالیاتی بل کی شق وار منظوری دے دی۔

قائمہ کمیٹی کی منظور شدہ سفارش کے مطابق، اب بیرونِ ملک سے لائے جانے والے یا امپورٹڈ موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز کی یکمشت ادائیگی کے بجائے قسطوں کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے موبائل ڈیوائس رجسٹریشن سسٹم کے تحت بلاک یا رجسٹرڈ ہونے والے فونز کا ٹیکس اب صارفین آسان اقساط میں ادا کر سکیں گے۔ تاہم، اس مقتدر قانون کے تحت یہ لازمی شرط رکھی گئی ہے کہ تمام اقساط اسی مالیاتی سال کے اندر ادا کرنا ہوں گی جس مالیاتی سال میں وہ فون پاکستان میں امپورٹ یا داخل کیا گیا ہو۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل نان کمپلائنس یعنی ڈیجیٹل قوانین کی عدم تعمیل پر عائد سخت سزاؤں اور قانونی کارروائیوں کے حجم میں بھی نمایاں کمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس بل قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں ایوان میں پیش کرنے کی مقتدر اجازت چاہی۔ اسپیکر کی جانب سے باقاعدہ اجازت ملنے پر انہوں نے یہ تاریخی رپورٹ ایوان کے سامنے پیش کی، جس کی اکثریت رائے سے منظوری دے دی گئی۔ معاشی اور تکنیکی ماہرین کے مطابق، پی ٹی اے ٹیکس قسطوں میں کرنے کے اس فیصلے سے ملک میں موبائل فونز کی قانونی رجسٹریشن کے رجحان میں مقتدر اضافہ ہوگا اور متوسط طبقے کو اپنے قیمتی فونز بحال کروانے میں انتہائی آسانی پیدا ہوگی۔