

منصور احمد, JULY 06,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء
پاکستان ریلوے نے مارچ دو ہزار چھبیس میں ہونے والے دو بڑے ٹرین حادثات کی حتمی انکوائری رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے سامنے پیش کر دی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں دونوں ہائی پروفائل حادثات کی بنیادی وجوہات انسانی غفلت اور تکنیکی خرابیوں کو قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 9 ذمہ دار ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 135 چھوٹے بڑے ٹرین حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 34 حادثات ریلوے ٹریک کی سنگین خرابی کی وجہ سے پیش آئے جبکہ کل حادثات کا 35 فیصد حصہ بغیر عملے کے ریلوے کراسنگز پر ہونے والے حادثات پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے مقتدر مندرجات کے مطابق، مہراب پور کے مقام پر شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں ہونے والا ہولناک تصادم ڈرائیور کی سنگین غفلت اور سگنل توڑنے کے باعث ہوا، جس میں ایک ملازم جاں بحق اور متعدد بوگیاں الٹ گئیں۔ ریلوے حکام نے اس حادثے میں ڈرائیور فیاض محمد، اسسٹنٹ ڈرائیور آصف سعید، سینئر ٹرین ایگزامنرز آصف حسین اور ولی اللہ خان سمیت ہیڈ ٹرین ایگزامنر عمران نثار کو براہِ راست، جبکہ سٹیشن ماسٹر اسد اللہ کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب، لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ تکنیکی مانیٹرنگ میں کوتاہی کا نتیجہ تھا، جہاں ڈائننگ کار کی فرنٹ ٹرالی میں نقص کے باعث ٹرین کی 8 کوچز پٹری سے اتریں اور متعدد مسافر زخمی ہوئے۔ اس فٹنس غفلت پر ثاقب غفور اور منہاس انور کو براہِ راست، جبکہ ہیڈ عمران شریف کو بالواسطہ ذمہ دار قرار دے کر ایکشن شروع کر دیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ کے دوران چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں سالانہ 35 سے 38 ہزار ٹرینوں کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے حادثات کی شرح محض 0.02 فیصد بنتی ہے، اور ریلوے انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود اپنے محنتی عملے کی مدد سے انجنوں، بوگیوں اور ٹریکس کی بحالی کا کام انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو فراہم کردہ سالانہ اعداد و شمار کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریک کی خرابی اور بغیر عملے کے پھاٹکوں کے علاوہ، ریلوے سٹاف کی غفلت کے باعث 32 حادثات، رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کی وجہ سے 30، تخریب کاری کے نتیجے میں 10، جبکہ باقی حادثات قدرتی آفات و دیگر وجوہات کے باعث پیش آئے۔ ریلوے انتظامیہ نے قائمہ کمیٹی کو پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام حادثات پر قابو پانے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔