

کاشف عباسی , JULY 06,026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء
آسٹریلیا کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان سوفی مولینو نے اعتراف کیا ہے کہ کپتانی سنبھالنے کے بعد انہیں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے شدید شکوک و شبہات کا سامنا تھا، لیکن انہوں نے خود پر اور اپنی ٹیم پر پختہ اعتماد برقرار رکھا، جس کا شاندار نتیجہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کا عالمی ٹائٹل جیتنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ترجمان کے مطابق، 28 سالہ آل راؤنڈر سوفی مولینو کو سال 2026ء کے آغاز میں مایہ ناز کھلاڑی ایلیسا ہیلی کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلوی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی، تاہم کپتانی سنبھالتے ہی کمر کی شدید انجری کے باعث وہ بھارت کے خلاف سیریز کے آخری میچوں اور بعد ازاں ویسٹ انڈیز کے دورے کے کچھ اہم مقابلوں سے باہر ہو گئی تھیں۔
ان کی اس انجری اور غیر موجودگی کے باعث آسٹریلوی سلیکٹر شان فلیگلر نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ سوفی مولینو کو کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے، جس سے ان کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ تاہم، سوفی مولینو نے ہمت نہ ہاری اور نہ صرف میدان میں بھرپور واپسی کی بلکہ بطور کپتان اور بہترین بالر کے طور پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو ایک بار پھر عالمی چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لارڈز کے تاریخی میدان پر تقریباً 30 ہزار تماشائیوں کے سامنے سنسنی خیز فائنل میچ جیتنے کے بعد سوفی مولینو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی فتح ان کی زندگی کا یادگار ترین دن ہے۔
انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ کپتانی کے آغاز میں وہ خود کو شدید غیر یقینی صورتحال میں محسوس کر رہی تھیں، جبکہ کمر کی انجری نے انہیں ذہنی طور پر مزید مایوس کیا اور ایک وقت ایسا بھی آ گیا تھا جب انہیں لگا کہ شاید یہ بھاری ذمہ داری ان کے لیے کامیاب ثابت نہ ہو سکے۔ تاہم، انہوں نے کٹھن وقت میں خود پر یقین رکھا اور آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے بھرپور تعاون نے انہیں بحالی اور میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، جس کی بدولت آج وہ ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے میں کامیاب ہوئیں۔