سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا ایکشن؛ بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری منصوبوں میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں میں غیرمعمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے اور تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے ہولناک اضافے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے کی سخت ہدایت کی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ذیلی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں سینیٹر سید وقار مہدی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں پنجاب اور بلوچستان میں غیرملکی مالیاتی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی اور سرسری جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران بلوچستان کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں غیرملکی امداد کی بدولت 11 مختلف اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مقتدر اراکین کو آگاہ کیا کہ سال 2015ء سے لے کر اب تک غیرملکی معاونت سے مجموعی طور پر 45 بڑے منصوبے شروع کیے گئے، جن میں سے اب تک صرف 14 مکمل ہو سکے ہیں جبکہ باقی ماندہ منصوبے تاحال مختلف تعطل اور مراحل کا شکار ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے حکام سے استفسار کیا کہ ان اہم ترقیاتی منصوبوں میں اتنی طویل تاخیر کی بنیادی اور اصل وجوہات کیا ہیں؟ جس پر محکمہ پی اینڈ ڈی کے حکام نے بتایا کہ منصوبوں میں تاخیر کی پانچ بڑی وجوہات ہیں، جن میں بعض اوقات ڈونر ایجنسیوں سے متعلق پیچیدہ معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے سخت سوال اٹھایا کہ کیا حکام کا مطلب یہ ہے کہ عالمی بینک (ورلڈ بینک) کی جانب سے منصوبوں میں تاخیر کی جاتی ہے؟ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں ان کا تجربہ یہ رہا ہے کہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں کبھی بھی کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

بلوچستان کے ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ نے معاملے کی مقتدر وضاحت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اصل مسئلہ بیرونی ڈونر ایجنسیوں کا نہیں بلکہ خود ملکی سرکاری اداروں کی جانب سے خریداری (پروکیورمنٹ) کا عمل بروقت مکمل نہ ہونے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں میں بین الاقوامی سخت قواعد و ضوابط کے مطابق پروکیورمنٹ کا عمل درکار ہوتا ہے، جسے ہمارے متعلقہ محکمے اکثر مقررہ وقت میں مکمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جس کے باعث پورے منصوبے تاخیر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے جب منصوبوں میں تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے اضافے کا پوچھا تو حکام نے ایک حیران کن مثال دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں محض 24 کلومیٹر طویل ایک سڑک کے منصوبے کی ابتدائی لاگت 54 کروڑ روپے طے کی گئی تھی، جو محکموں کی سستی اور تاخیر کے باعث اب بڑھ کر 2 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ ذیلی کمیٹی نے اس غیرمعمولی مالیاتی نقصان اور لاگت میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو غیرملکی امداد سے جاری تمام منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار کو فوری بہتر بنانے، پروکیورمنٹ کے پورے نظام کو فول پروف و موثر بنانے اور عوامی وسائل کے مزید ضیاع کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کا مقتدر حکم جاری کیا۔