عالمی مالیاتی ادارے پر انحصار ختم کرنے کے لیے ملکی برآمدات اور جدید تیکنیک کا فروغ ناگزیر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

https://images.openai.com/static-rsc-4/9FH5xvDeYcPCfTKKZ96popFSxOjP8d34PbdXMf1x8myQdEpO6ofrSxNOmJuDF8-auksXU2CMI8qnSBCrsB3dLMh8hhdaiWWUnLM_92gHZGGvpnt5R1kX4sf4SEmarOYCjVJiIfb0VnoIcY9L1dBVavhxJMcBobUldwpL1Pygno8aXWzBV9mAGggzPdQN1hmZ?purpose=fullsize

کاشف عباسی ,june 28,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، بقا اور تعمیر و ترقی کا حتمی فیصلہ اب معاشی محاذ، جدید تیکنیک اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی سے مشروط ہے کیونکہ بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی ادارے کے چنگل سے مستقل آزادی صرف برآمدات میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک تربیتی مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا جہاں ارکانِ قومی اسمبلی، سیاسی رہنما اور ادارے کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اڑان پاکستان پروگرام کے ذریعے نوجوان نسل کو جدید ترین انٹرنیٹ مہارتوں اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ عالمی معیشت میں ملک کا ایک منفرد مقام بنایا جا سکے۔ انہوں نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے حالیہ سفارتی کامیابیوں کا سہرا وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر باندھا جن کی تزویراتی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کیا۔

امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر یہ معرکہ طول پکڑ جاتا تو پوری دنیا شدید ترین معاشی بحران، ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عالمی مہنگائی کی لپیٹ میں آ جاتی، مگر پاکستان نے اپنی مؤثر اور مقتدر سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن قائم کرنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا جس کا اعتراف اب پوری دنیا کر رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سال دو ہزار تیرہ میں مسلم لیگ (ن) کو دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسائل ورثے میں ملے تھے جن پر میاں نواز شریف کی قیادت میں قابو پایا گیا اور سال دو ہزار سترہ میں دنیا پاکستان کو بیس بڑی معیشتوں میں شامل دیکھ رہی تھی مگر بعد میں آنے والی حکومت نے ملکی ترقی کے اس سفر کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ کے سائے منڈلانے کے باوجود حکومت نے سیاست کے بجائے ریاست کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں اڑتیس فیصد کی ریکارڈ مہنگائی اب محض چھ فیصد پر آ چکی ہے جبکہ بینکوں کی پالیسی شرح سود بھی تئیس فیصد سے کم ہو کر دس فیصد کی سطح پر آ گئی ہے، جو معاشی بحالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بیرونی ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کی جانب سے سالانہ چالیس ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی اور انتہا پسندی کا راستہ چھوڑ کر جدید مہارتیں سیکھیں کیونکہ ملکی ترقی کا راز پالیسیوں کے تسلسل اور محنت میں پنہاں ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہو چکا ہے اور بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ عالمی برادری بھی اس معاملے پر اس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔