

محمود احمد, JULY 08,2026
جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء
سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سے متعلق امور کے لیے قائم مقتدر ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الغامدی اور یونیسکو کے مقتدر نمائندے کے مابین سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک اہم اور تزویراتی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ مقتدر ملاقات مصنوعی ذہانت اور حکومت سے متعلق عالمی مکالمے کے سلسلے میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر سائیڈ لائنز میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران دونوں اعلیٰ عہدے داروں نے سعودی عرب اور یونیسکو کے مابین مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے پس منظر میں عالمی سطح پر اخلاقی ضوابط کی مقتدر پالیسی اور اس سے جڑے اہم امور کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔
ڈاکٹر عبداللہ الغامدی نے یونیسکو کی جانب سے اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کو مقتدر الفاظ میں سراہا، اور ساتھ ہی مملکتِ سعودی عرب کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر ادا کیے جانے والے کلیدی کردار اور عالمی معیار کے قائم کردہ مرکز کا خصوصی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے اس مقتدر ادارے کو یونیسکو کی جنرل کانفرنس نے دوسرے درجے کے مرکز کے طور پر منظور کیا تھا، جو عالمی سطح پر اس جدید ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترقی کے تزویراتی امور میں مدد دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر الغامدی نے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی ان مقتدر کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جو بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اصولوں اور پریکٹس کے لیے کی جا رہی ہیں، جس کے تحت اب تک ۶۰ سے زائد کمپنیوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے مقتدر اصول واضح کیے جا چکے ہیں۔