میڈیا بلیک آؤٹ: مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے دوران پی ٹی وی اور لائیو اسٹریمنگ بند، اپوزیشن کا شدید احتجاج؛ عالمی سطح پر نیک نامی کمانے والی حکومت ملک کے اندر ساکھ گنوا رہی ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)

https://images.openai.com/static-rsc-4/kRUjIXS1DgN4pIOmaZNFK1uOJTVtGr9zT5n-w0h8jyQV6cNLvo-zkxCF67NlUGBA5Siwbm8zn65tZymZXpjrF5Pquy1YDKsVSFI5sEGJFWYxjeT7z4s8br_WZZRy1ddTughjFU124BXUtxBHJT7zitX5-meXN9q7GJH-2D6UaVvbro6FLQp5YXq3VsuRealE?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اجلاس میں وفاقی حکومت، اسپیکر اور عسکری قیادت کے سیاسی کردار کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایوان میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، اس تندوتیز خطاب کے دوران ایک سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب سرکاری ٹی وی کے چینل ‘پی ٹی وی پارلیمنٹ’ اور نیشنل اسمبلی کی آفیشل لائیو اسٹریمنگ کو اچانک اور مقتدر طور پر بند کر دیا گیا۔ ایوان کے اندر نصب اسکرینوں اور اسپیکرز پر بھی مولانا کی آواز کو دبا دیا گیا، جس پر اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا۔

نشریات کی بندش سے قبل مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “جناب اسپیکر! کل آپ بھی ایوان میں ضرورت سے زیادہ بولے، کل آپ نے جو جذباتی گفتگو کی تھی، وہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھی اور آپ کو ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہئے تھا”۔ حکومتی بینچوں پر بیٹھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ماضی کا آئینہ دکھاتے ہوئے امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ جب میاں نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہوتے تھے، تو کیا وہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا نواز شریف نے خود فوج کو ‘محکمہ زراعت’ کا مقتدر لقب نہیں دیا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عالمی سطح پر (امریکا ایران معاہدے کے باعث) شاید نیک نامی کما رہی ہو، لیکن پاکستان کے اندر وہ اپنی تمام تر نیک نامی گنوا چکی ہے؛ پاکستان کی فوج کو سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہئے، لیکن اسے ملک کے اندر سیاسی و انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مقتدر فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انہوں نے مظفرآباد کی طرف اپنا لانگ مارچ فی الحال مؤخر کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شکوہ کیا کہ کل تک ہم عالمی فورمز پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا رونا روتے تھے، لیکن آج ہم خود اپنے آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ وفاقی کابینہ کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں جو متنازع گفتگو کی، وہ ان کے منصب کے بالکل خلاف تھی۔ حکومت کی پالیسی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مقتدر طنز کیا کہ آپ کی حکمتِ عملی سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ آپ نے لڑائی کا ٹاسک خواجہ آصف کو اور صلح صفائی کا کام نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اس مقتدر خطاب کو سنسر کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی سیاسی درجہ حرارت شدید بڑھ گیا ہے۔