پاکستان کی تاریخ کا بڑا توسیعی منصوبہ؛ مالی سال 27-2026 میں پندرہ ہزار سے زائد دیہات کی برق کاری اور سولہ لاکھ نئے کنکشنز کا ہدف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مالی سال 2026-27 کے دوران ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کا دائرہ کار غیر معمولی حد تک بڑھانے کے لیے پندرہ ہزار تین سو ستائیس (15,327) دیہات کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے اور سولہ لاکھ نواسی ہزار آٹھ سو انچاس (1,689,849) نئے صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کا ایک مقتدر تزویراتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت دیہی علاقوں تک بجلی کی پائیدار رسائی اور صارفین کی مجموعی تعداد میں ریکارڈ اضافہ تقسیمی شعبے کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ ’ویلتھ پاکستان‘ کو دستیاب پاور ڈویژن کی ایک باضابطہ دستاویز کے مطابق، یہ خطیر سرمایہ کاری اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی، جس کا تعلق بجلی تک رسائی رکھنے والی ملکی آبادی کے تناسب سے ہے۔ ان مقتدر اقدامات سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور وولٹیج کے نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

دستاویز کے تزویراتی متن کے مطابق، دیہات کو بجلی فراہم کرنے کی اس مہم میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کو سب سے بڑا ہدف سونپا گیا ہے، جس کے تحت مالی سال کے دوران آٹھ ہزار آٹھ سو چھہتر (8,876) دیہات کو بجلی سے منسلک کیا جائے گا۔ دیگر کمپنیوں کے اہداف درج ذیل جدول میں تفصیلاً دیکھے جا سکتے ہیں:

دستاویز کے مطابق، ملک کے مجموعی تقسیمی نظام کو تزویراتی طور پر مزید لچکدار اور مضبوط بنانے کے لیے 132 کے وی کی 799.5 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی، جبکہ 132 کے وی نظام میں 2 ہزار 87 ایم وی اے کی اضافی ٹرانسفارمر استعداد شامل کی جائے گی۔ اس گرینڈ منصوبے کے تحت 11 کے وی نظام میں بھی 1 ہزار 321.15 ایم وی اے کی اضافی استعداد پیدا کی جائے گی، جبکہ ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن فیڈرز کو بہتر بنانے کے لیے 11 کے وی کی 4 ہزار 134 کلومیٹر اور 400 وولٹ کی 1 ہزار 742 کلومیٹر طویل نئی بجلی کی لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیعی منصوبہ اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت ایک جانب بڑے شہروں میں صارفین کی صنعتی و خانگی مانگ کو پورا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دور دراز کے پسماندہ دیہی علاقوں تک بجلی کی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے جہاں اب تک یہ بنیادی سہولت محدود یا یکسر ناپید تھی۔