

روزینہ اسماعیل, JULY 02,2026
کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء
پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات اور نیکسٹ کیپیٹل کے ڈائریکٹر نجم علی نے ملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور مجموعی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تلخ حقیقت پر مبنی تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں پراپرٹی کی قیمتوں کا مصنوعی ابھار عام پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک میں چھت کی نعمت سے محروم کر چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہاورڈ بزنس اسکول اور یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلیم یافتہ نجم علی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک چونکا دینے والا موازنہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے اندازے کے مطابق صرف ڈی ایچ اے کراچی کی رئیل اسٹیٹ اور زمینوں کی مجموعی مالیت تقریباً اتنی ہی ہے جتنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج ملک کی تمام بڑی کمپنیوں کی مجموعی مالیت ہے۔
پاکستان کی سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہر نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ پیداواری شعبوں کے بجائے ملک کا سارا سرمایہ زمینوں کے ڈھیر میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا حالیہ برسوں میں آنے والا عروج کبھی بھی کسی حقیقی معاشی ترقی یا ‘ویلیو کریئشن’ یعنی قومی پیداوار میں اضافے کا مرہونِ منت نہیں تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ غیرٹیکس شدہ پیسہ یا کالا دھن تھا جو حکومت اور اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں تھا، اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے اسے یہ موقع فراہم کیا۔
نجم علی نے اس کے بھیانک نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اندھی سرمایہ کاری اور مصنوعی مہنگائی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو ہوا ہے۔ نتیجہ یہ نکل چکا ہے کہ اب ملک کی اکثریت، خصوصاً مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقہ، پاکستان کے اندر اپنے لیے ایک چھوٹا سا گھر یا پلاٹ خریدنے کی سکت بھی مکمل طور پر کھو چکا ہے، کیونکہ قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور جا چکی ہیں۔ یاد رہے کہ نجم علی پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ کا ایک بڑا نام ہیں، وہ جے ایس انویسٹمنٹس کے سی ای او رہنے کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ان انگلینڈ اینڈ ویلز سے بھی وابستہ ہیں، اور ان کے اس بیان کو معاشی حلقوں میں پاکستان کے رئیل اسٹیٹ ڈھانچے پر ایک کڑی چارج شیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔