برادر ملک کے ساتھ معاشی روابط میں مقتدر پیش رفت: پاکستان نے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا ہدف مقرر کر دیا

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان نے برادر ملک کے ساتھ لیبر موبیلٹی، انسانی سرمائے کی ترقی اور باہمی معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں ریکارڈ دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا تزویراتی ہدف مقرر کر دیا ہے، جو کہ ایک طویل المدتی افرادی قوت کی ترقی کی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تاریخی ہدف دونوں ممالک کے معاشی تعاون کے فریم ورک کے تحت تیار کردہ پندرہ سالہ ہیومن ریسورس ڈیپلائیمنٹ پلان کا حصہ ہے، جو پاکستانی افرادی قوت کو سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کی جدید ضروریات کے مطابق مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت سالانہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے کارکنوں کی مجموعی تعداد کو سال دو ہزار انتالیس تک بڑھا کر پندرہ لاکھ دس ہزار تک پہنچانے کا مقتدر ہدف رکھا گیا ہے، جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کی ایک منظم پائپ لائن تیار کی جائے گی، جبکہ اس عمل میں تعمیرات، ہوٹلنگ، سیاحت، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور انفراسٹرکچر کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستانی محنت کشوں کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے اور بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہونے والے سات لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد ملکی کارکنوں میں سے پانچ لاکھ تیس ہزار سے زائد یعنی تقریباً ستر فیصد افراد نے روزگار کے لیے سعودی عرب کا رخ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی تعداد کل افرادی قوت کا چھیانوے فیصد بنتی ہے۔ سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کے تحت شروع ہونے والے میگا اور گیگا پروجیکٹس کی بدولت وہاں تعمیرات اور سروسز کے شعبوں میں روزگار کے بے پناہ نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی قومی حکمتِ عملی کو سعودی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے، جس کے تحت نیوٹیک اور سعودی عرب کے فنی اداروں کے مابین کوالیفیکیشن کو ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ انٹیگریشن سمیت آجر سے منسلک بھرتی کے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان نے اس ڈیمانڈ ڈریون تربیتی انفراسٹرکچر، اسکل سٹیز اور مشترکہ تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے سعودی عرب کی شراکت داری سے اڑتیس ارب ڈالر کا ایک بڑا سرمایہ کاری فریم ورک بھی تجویز کیا ہے، جس میں ستائیس ارب ڈالر تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دس ارب ڈالر اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حالیہ عرصے میں اس تزویراتی اقدام کے تحت ستر سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور انسانی وسائل کی نمائش کے بعد چار ہزار سات سو سے زائد کارکنوں کی فوری تعیناتی سمیت سعودی تکامل اور مساند جیسے مقتدر اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مستقبل کے بین الاقوامی مواقع بالخصوص فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چونتیس کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی افرادی قوت کی طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے تحت سال دو ہزار چھبیس سے دو ہزار چونتیس کے درمیان انفراسٹرکچر، ہوا بازی، سیاحت اور متعلقہ شعبوں کے لیے تین سے چار لاکھ مقتدر کارکنوں کی خصوصی تربیت اور تعیناتی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی ترجیحی ورک فورس پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے اور ملک کو زیادہ ترسیلاتِ زر حاصل ہو سکیں۔